Friday, May 27, 2011
Friday, May 6, 2011
Tuesday, June 22, 2010
Saturday, June 19, 2010
Friday, June 11, 2010
Saturday, June 5, 2010
MBBS AND HOMEOPATHIC DOCTOR
یسٰین رحمان اور ڈاکٹر عنایت نے جو اعتراضات اٹھائے ہیں‘ وہ نہایت فضول ہیں‘ مگر افسوس تو یہ ہے کہ ان صاحبان کو ڈاکٹر کا مطلب ہی نہیں معلوم ہے‘ اگر انہیں ہومیوپیتھ کے اپنے نام کے ساتھ ڈاکٹر لکھنے پر اعتراض ہے تو ان سے ہومیوپیتھک ایسوسی ایشن سوال کرتی ہے کہ بیچلر ڈگری کا حامل کوئی بھی اپنے نام کے ساتھ ڈاکٹر نہیں لکھ سکتا‘ اگر ایم بی بی ایس کا جائزہ لیا جائے تو اس کا مخفف ”بیچلر آف میڈیسن ‘ بیچلر آف سرجری“ بنتا ہے‘ تو جناب یہ حضرات تو ماسٹر ڈگری کے حامل بھی نہ ہوئے۔
انکی مزید معلو مات کیلئے انہیں یہ بھی بتا دیں کے جب کوئی شخص کسی چیز میں پی ایچ ڈی کرتا ہے چاہے وہ کسی مشہور شخصیت کی حالات زندگی کے بارے میں ہو‘ کسی سائنسی حوالے سے ہو یا کسی میڈیسن کے حوالے سے ہوں‘ اس شخص کے نام کے ساتھ ڈاکٹر لکھا جاتا ہے۔ جس طرح اردو لٹریچر میں ڈگری حاصل کرنے والے کو ڈاکٹرکہتے ہیں۔ انہیں سب سے پہلے اعتراض پی ایچ ڈی ڈاکٹروں پر ہونا چاہئے جن کا ادویات کے ساتھ کسی قسم کا تعلق نہیں ہوتا‘ پھر سائنس دانوں پر اعتراض ہونا چاہئے کیونکہ وہ بھی میڈیکل لائن سے بالکل الگ تھلگ ہوتے ہیں جبکہ ہومیوپیتھ پھر بھی ادویات پر کام کرتے ہیں‘ ان کے بارے میں پڑھتے ہیں‘ ریسرچ کرتے ہیں اور علاج کرتے ہیں‘ تو پھر ان کے نام کے ساتھ ڈاکٹر لکھنا انہیں کیوں پریشان کرتا ہے۔ معذرت کے ساتھ ایلوپیتھک کے طریقہ علاج سے مایوس کئی لوگ ہومیوپیتھک سے شفا یاب ہوتے ہیں۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ ایلوپیتھی طریقہ علاج صحیح نہیں‘ ایسا ہرگز نہیں‘ ایلوپیتھک جدید طریقہ علاج ہے‘ لیکن ہومیوپیتھک بھی کسی طرح پیچھے نہیں جبکہ ہومیوپیتھک علاج ایلوپیتھک علاج کے بعد دوسرا بڑا علاج کا طریقہ ہے جس کا اعتراف عالمی ادارہ صحت( ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن) نے بھی کیا ہے۔ آج ہومیوپیتھک کے طریقہ علاج نے اس بیماری کے علاج میں بھی کامیابی کے جھنڈے گاڑ دیئے ہیں‘ جنہیں دوسرے طریقہ علاج نے ہتھیار ڈال کر مریض کو مایوس کردیا۔ یہی وجہ ہے کہ اب لوگوں کا رجحان ہومیوپیتھک علاج کی طرف زیادہ پایا جاتا ہے۔ اس وقت ہومیوپیتھک میں بڑے بڑے نامور ڈاکٹر اپنے جوہر دکھا چکے ہیں اور دکھا رہے ہیں۔
انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ یہ اعتراض اٹھا کر یہ 1965 کی آئنی شقوں کی خلاف ورزی کے مرتکب ہو رہے ہیں‘ جس کی رو سے ہومیوپیتھ اپنے نام کے ساتھ ڈکٹر کالفظ استعمال کر سکتے ہیں۔ چونکہ فی زمانہ طبیب کےلئے ڈاکٹر کا لفظ مستعمل ہے ‘ اگر لفظ ڈاکٹر لکھنا ہومیو پیتھک معالجین کےلئے ممنوع ہے تو پھر کسی بھی معالج کیلئے لفظ ڈاکٹر کالکھنا ضروری نہیں ہے۔
اس سسٹم کو دوصدیاں گذر جانے کے باوجود اس سے خائف آج تک ہومیو پیتھک طریقہ علاج کوختم نہ کر اسکے۔ پاکستان میں سرکاری سرپرستی نہ ہو نے باوجود ہومیو پیتھک سسٹم آف میڈیسن پاکستان میںریکارڈ ترقی کر رہاہے۔ یہاں حیرت انگیز بات یہ کہ پاکستان میں ہومیو پیتھک طریقہ علا ج سے شدید تعصبات اور حکومتی سرپر ستی نہ ہونے کے باوجو یہ آج ناصرف پاکستان بلکہ ساری دنیا میں اپنا لوہا منوا رہاہے اور اس سسٹم کو اس کے شفا بخش ہونے کی وجہ اس سسٹم کے مخالفین جی بھرکر اس پر تنقید کرتے ہیں حالانکہ اس میں تمام کے تمام وہی مضامین پڑھائے جاتے ہیں جو ایم بی بی ایس کے نصاب کا حصہ ہیں۔
یہ بات ہر ایلو پیتھ جانتا ہے کہ ایلوپیتھک ادویات میں اسپرین سے لیکر تمام کی تمام ہائی اینٹی بائیوٹک تک ادویات شفایابی سے زیادہ اپنے اندر مضرِ صحت اثرات رکھتی ہیں۔اگر یقین نہیں آتا تو ہر دوا کے بارے میں انٹرنیٹ پر اس کے مضر اثرات دیکھے جا سکتے ہیںاور ورلڈ ہیلتھ آرگنائزشن کی رپورٹس میں بھی ایلوپیتھک ادویات کے مضر صحت اثرات پر کئی رپورٹ منظر عام پر آتی رہتی ہیں‘اس کے بر عکس ہومیو پیتھک ادیات کے کسی قسم کے مضر اثرات نہیں ہوتے ہیںیہ ہی ہومیو پیتھک ادیات کا کمال ہے‘ یہ ادویات ڈائنامک طریقے پر شفایابی فراہم کرتی ہیں۔
انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے ضروری ہے کہ طب کے میدان میں تعصبات کا خاتمہ ہونا چاہئے۔ غریب عوام کی فلاح کےلئے حکومت کو ہر بہتر اقدام اٹھانا چاہئے اور ہر ڈاکٹر کوچاہے اس کا تعلق ایلو پیتھک سے ہو یا ہومیوپیتھک سے‘ ہمہ وقت اور ہمہ جہت میں خادم کی طرح تیار رہنا چاہئے۔ ہمارے ہاں قوم کو طبی سہولتیں نہ ہونے کے برابر ہیں ‘ہومیو پیتھی بے حد سستا علاج ہے۔ بھارت جرمنی‘ امریکہ اور کئی دوسرے ممالک کی طرح پاکستان کے ہر ہسپتال میں ہومیو پیتھی کا شعبہ بھی کھولا جانا چاہئے تاکہ ایلوپیتھک سے مایوس افراد ہومیو پیتھک سے مستفید ہو سکیں۔
Wednesday, June 2, 2010
Monday, May 17, 2010
CODE OF ETHICS OF HOMEOPATHIC PRACTICE
پاکستان میں ہومیوپیتھک ڈپلومہ ہولڈرز ڈیڈھ لاکھ، رجسٹرڈ ہومیو ڈاکٹرز ایک لاکھ بیس ہزار جبکہ رینویل ہومیو ڈاکٹرز 60 ہزار سے زائد کی تعداد میں ہیں۔ مگر آپکو یہ جان کر حیرت ہوگی ان میں سے95% سے زائد ہومیوپریکٹشنر زوہ ہیں جنہوں نے اپنی زندگی میں ایک دفعہ بھی اس کتابچہ جسے ضابطہ اخلاق (Code of Ethics)کہتے ہیں کا کبھی مطالعہ کیا ہو جو وزارت صحت حکومت پاکستان نے قومی کونسل برائے ہومیوپیتھی کی مشاورت سے چھٹی نمبر F.3-7/66 UAH کے تحت منظور کر رکھا ہے اوریونانی آیورویدک اور ہومیوپیتھک پریکٹشنرز ایکٹ 1965-2002 کی زیلی شق 33/4 کے تحت اسکی خلاف ورزی پر ہومیوپیتھک ڈاکٹر کا نام رجسٹرڈ پریکٹشنرز لسٹ سے خارج کیا جاسکتا ہے یا ایک خاص مدت تک کے لئے مزید پریکٹس کرنے سے روکا جاسکتاہے اور خاص حالات میں اس پر مقدمہ بھی قائم کیا جاسکتا ہے۔ ایک عام ہومیو ڈاکٹر میں شعور بیدار کرنے، ان میںہومیوپیتھک پریکٹس کے دوران ضابطہ اخلاق کی پاسداری کرنے اور معاشرہ میں ایک اچھے، تعلیم یافتہ اور حلیم شخصیت کے طور پر شہرت حاصل کرنے یا پہچان بنانے کے لئے یہ ضروری ہے کہ ہر ہومیو پریکٹشنر کو ضابطہ اخلاق کے بارے مکمل آگاہی دی جائے تاکہ ہومیو ڈاکٹرز اس ضابطہ اخلاق پر عمل کرکے نہ صرف اپنی شخصیت میں نکھار پیدا کریں بلکہ ہومیوپیتھی شعبہ کی ترقی کے ساتھ ساتھ اس شعبہ کیلئے نیک نامی کا باعث بھی ہوں۔ یہاں صرف ضابطہ اخلاق کی چیدہ چیدہ شقیں درج کی جارہی ہیں۔ اصل مسودہ کیلئے قومی کونسل برائے ہومیوپیتھی سے جاری انگریزی زبان میںمہیا کوڈ آف ایتھکس کتابچہ کا مطالعہ کریں
فیس نہیں تو دیکھ بھال نہیں (No Fees No care) والی مثال پر عمل کرنا ایک غیر اخلاقی حرکت ہے جس سے اجتناب ضرروی ہے۔ کوئی بھی ایسا کام نہ کیا جائے جو آپکے وقار کے منافی ہو یا جس سے پیشہ کی ساکھ متاثر ہوتی ہو۔ ہومیو ڈاکٹر کو چاہئے کہ وہ صرف ہومیو پیتھک کے تجویز کردہ زریں اصولوں کی مطابق ہی پریکٹس کرے۔
کسی ہومیو ڈاکٹر کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ کسی دوسرے ہومیو ڈاکٹر سے فیس کی مد میں کمیشن وصول کرے۔ ایسا کرنا نہ صرف غیر اخلاقی ہے بلکہ بعض حالات (Cases) میں غیر قانونی بھی۔ اسی طرح ادویات کو لکھنے، مریض کے لیبارٹری ٹیسٹ کروانے، سرجری کیلئے ریفر کرنے اور الٹراساونڈ یا ایکس رے کروانے کی مد میں کسی شخص یا ادارہ یا سٹور کیپر سے کسی قسم کاکمیشن نقدی یاتحفہ (Cash or Gift) کی صورت میں وصول کرنانہ صرف پیشہ ورانہ اصولوں کے منافی ہے بلکہ اخلاقی گراوٹ کی بدترین مثال ہے۔ اسی طرح نرسسز، ٹیکسی یا رکشہ ڈرئیورز، ٹانگہ بان وغیرہ کو مریض ریفر کروانے یا لے کر آنے پر کمیشن دینا انتہائی غلیظ حرکت ہے جو کسی بھی طرح مسیہائی شعبہ کی غمازی نہیں کرتا۔ تفصیل کے لئے کوڈ آف ایتھکس کا مطالعہ کریں
تفصیلی شقوں کے لئے بروشر دیکھیں۔
کسی بھی فوڈ آئٹم تجویز کرتے وقت احتیاط برتی جائے۔جبکہ اس میں پائے جانے اجزائ کے بارے آپ معلومات بھی نہ رکھتے ہوں۔ایسی چیزوں پر کمیشن وصول کرنا، لیکچر کروانا، ٹور پروگرام ارینج کرنا اور اس میں شرکت کرنا انتہائی گری ہوئی حرکت ہے۔ ہومیو ڈاکٹرکیلئے یہ مناسب نہیں کہ وہ ڈاکٹری نسخہ میں کسی قسم کا چھپا اشارہ (Code Word) استعمال کرے جسے وہ یا اسکا اسسٹنٹ یا سٹور کا مالک ہی سمجھ سکتا ہو۔ کسی ہومیو ڈاکٹر کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ کسی فارمیسی کے مالک یا فارماسسٹ کے ساتھ کاروباری شراکت کرکے تجویز ادویات پر کمیشن یا منافع کمائے۔ کسی ہومیو پریکٹشنر کو اجازت نہیں کہ وہ کسی بھی ہومیو فارمیسی / لیبارٹری کی پروڈکٹ یا دوا پر اپنی رائے کا اظہار کرے جب تک ادارہ یا فارمیسی اس بات کی گارنٹی نہ دے کے وہ رائے کسی بھی جگہ شائع نہیں کی جائے گی۔ ثبوت ملنے پر ہومیو ڈاکٹر کی رجسٹریشن منسوخ کی جاسکتی ہے۔
ٹی وی ریڈیو کے لئے میڈیکل کے شعبہ کے پروگرام براڈکاسٹ کرنے کیلئے بطور میزبان (Anchor person) خدمات دینے والے کو نا معلوم (Annoymous) ہونا چاہئے۔صرف کلینک کے اوقات کار میں تبدیلی یا جگہ کی منتقلی کا نوٹس اخبار میں دیا جاسکتا ہے۔اخبارات، رسائل یا کتب کی اشاعت میں بھی زاتی تشہیر سے اجتناب کیا جائے، کتاب کے مصنف ہونے کی صورت میں اپنا نام اور ایڈریس لکھ سکتے ہیں مگر تصویر چھاپنے سے گریز کریں۔ اسی طرح اپنے عہدہ کا تزکرہ بھی نہ کریں۔ ہومیوپیتھک مفید مشورہ صرف میڈیکل سے متعلقہ رسائل میں شائع ہو سکتے ہیں۔ کوئی پریکٹشنر یہ دعویٰ نہ کرے کہ آرام نہ آنے کی صورت میں فیس واپس کردے جائے گی۔
ہومیوپریکٹشنرز کو چاہئے کہ نہ صرف وہ خود ان ہدایات پر سختی سے عمل کریں اور اپنی اپنے پیشے کی نیک نامی میں اضافہ کریںبلکہ اپنی ساتھی اطبائ کو بھی اسکی ترغیب دیں۔
Thursday, May 13, 2010
Leucorrhea and Homeopathy
لیکوریا
لیکوریا عام طور پر سفید مادہ کے اخراج کے نام سے جانا جاتا ہے جو زنانہ اعضائے تولید کی بیماری ہے جس میں سفید مادہ زنانہ ستر سے خارج ہوتا ہے۔ اس کا سنکرت نام شویتا پرادرا‘ دو الفاظ مجموعہ ہے شویتا کا مطلب سفید اور پرادرا کا مطلب اخراج۔
لیکوریا کی عام تعریف سفید مادہ ہوتا ہے جو زنانہ اعضائے تولید جنسی عضو سے خارج ہوتا ہے۔ یہ اخراج بالکل ہموار طور پر بہتا ہے یا پھر چپکنے والا اور گاڑھا ہوتا ہے۔ اس کی ہئیت خواتین کی عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ بدلتی ہے یا وہ بہت سفر کریں تو تبدیلی ہوتی ہے۔ زنانہ جنسی مخصوص عضو سے مادہ کا اخراج ایک خاص حد تک صحت مندی کی علامت اور عام بات ہے‘ یہ اخراج اصل میں اعضائے تولید کے مردہ خیلوں کا مائع صورت میں ہوتا ہے اور یہ وہ زہریلے اجزاءہوتے ہیں جو کہ مسلسل عضو سے خارج ہوتے رہتے ہیں۔ عام صحت مند خواتین میں یہ اخراج سفیدی مائل ہوتا ہے لیکن اگر اخراج رنگت میں گاڑھا ‘لیسدار‘سفید رنگ اور جلن دار ہو جائے تو طبی معائنہ کی ضرورت ہے۔ علامات کے مطابق صورتحال جب سنگین اور اخراج میں کوئی غیرمعمولی عمل ہوتو درج ذیل حالات میں لیکوریا کے علاج کی ضرورت ہوتی ہے۔
۱۔ اگر اخراج بہت زیادہ اور مسلسل ہو اور اس کو روکنا مشکل ہو‘ یہاں تک پیڈ رکھنا پڑے۔
۲۔ اگر اخراج بالکل سفید نہ ہو بلکہ یہ سرمئی مائل سفید ہو‘ پیلا ہو یا سبز ہو‘ بھورا ہو یا زنگ جیسا ہو اور اخراج کے دوران خارش کا احساس ہو۔
اسباب :
درج ذیل کچھ مشہور اسباب ہیں۔
1- کسی قسم کی پھپھوندی سے ہونے والا انفیکشن
کوئی فنگس جیسے کہ خمیر اعضائے تولید یا جنسی اعضاءمیں انفیکشن کا باعث ہوتے ہیں جس کی وجہ سے لیکوریا ہو جاتا ہے جب یہ بیماری فنگس کی وجہ سے ہو تو اخراج گاڑھا ہو گا۔ سفید ہو گا اور اس کے ساتھ جنسی عضو میں خارش کا احساس ہو گا۔ اس قسم کے اخراج کو زنانہ عضو کی پھپھوندی کہا جاتا ہے۔
2- طور پر منتقل شدہ بیماری:
کچھ جنسی طور پر منتقل شدہ بیماریاں خواتین میں لیکوریا کا سبب بنتی ہیں۔ اس میں جنسی طور پر منتقل ہونے والی بیماری Trichomoniasis ہے جس میں اخراج سبزی مائل یا پیلا ہوتا ہے۔
3 گندے بیت الخلائ سے:
بیت الخلاءکی اشیاءکا مشترکہ استعمال‘ خاص طور پر عوامی بیت الخلاءزنانہ جنسی عضاءکے انفیکشن کا باعث بنتے ہیں جس کے نتیجے میں لیکوریا کا مرض ہو جاتا ہے۔ یہ ان خواتین میں دیکھنے میں آیا ہے جو جنسی عضو کی ادویات کا زیادہ استعمال کرتی ہیں۔
4- بچے دانی کے آخری تنگ حصے کے مسائل :
اس میں بچے دانی کے سرے پر چھالے یا ورم بھی لیکوریا کا باعث ہو سکتا ہے۔ اس حالت میں لیکوریا کا اخراج بہت زیادہ ہوتا ہے بلکہ جنسی ملاپ کے دوران ہونے والے اخراج سے بھی زیادہ ہوتا ہے اور یہ بھورے رنگ کا ہوتا ہے اور جمے ہوئے خون سے مشابہت رکھتا ہے۔
5-کے نچلے حصہ کی سوزش:
پیلوس یا پیٹ کے نچلے (جس میں تولیدی و جنسی اعضاءہوتے ہیں) پیلوس میں انفیکشن کے باعث سوزش ہو سکتی ہے۔ اس حصے میں سوزش بھی لیکوریا کا سبب بنتی ہے
6- مختلف بیماریوں کی وجہ سے:
وہ خواتین جو مختلف بیماریوں کا شکار ہوتی ہیں جیسے کہ تپ دق‘ یا انیمیا (خون کی کمی) ان کے جنسی عضو سے اخراج کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے یہ ان خواتین میں دیکھا گیا ہے جو کہ بیماریوں کے خلاف مدافعت نہیں رکھتیں یا ناقص خوراک استعمال کرتی ہیں۔
7- دباﺅ اور تناﺅ:
لیکوریا کا کچھ سبب نفسیاتی بھی ہوتا ہے جو خواتین بہت دباﺅ میں رہتی ہیں‘ یا پریشانیوں کا شکار رہتی ہیں ان میں لیکوریا کا مرض ہوسکتا ہے۔اور بعض خواتین اتنی خوف زدہ ہوتی ہیں اور کلینک میں آکر کہتی ہیں ڈاکٹر صاحب ہماری ہڈیاں گھل رہی ہیں۔
لیکوریا کی اقسام:
لیکوریا کی مختلف اقسام کی جماعت بندی اخراج کے رنگ اور اسباب کی بناءپر کی گئی ہے۔ درج ذیل جدول ان اقسام کا خلاصہ واضح کرتا ہے۔
لیکوریا کی قسم
سبب
اخراج کا رنگ
انفیکشن کا لیکوریا
پھپھوندی کے باعث ہونیوالا انفیکشن
گاڑھا اور سفید خارش کا احساس لئے ہوئے
جنسی طور پر منتقل شدہ لیکوریا
جنسی طور پر منتقل شدہ لیکوریا جیسے کہ Trichomoniasis
سبز اور پیلے رنگ کا اخراج
سرویکل لیکوریا
بچہ دانی کے سرے پر چھالے یا ورم آجانا
خون سے مشابہ زنگ کے جیسا بھورا اخراج
پیٹ کے نچلے حصہ ‘ جہاں اعضائے تولید ہوتے ہیں‘ کا لیکوریا
پیٹ کے اس حصے میں خرابی جو اعضائے تولید پر مشتمل ہوتا ہے‘ خاص طور پر اس حصے کی سوزش
سفید رنگ کا اخراج ‘ کمر کے نچلے حصہ میں درد کے ساتھ
ذہنی دباﺅ یا تناﺅ کے سبب ہونے والا لیکوریا
ذہنی دباﺅ اور تناﺅ
پتلا سیفد اخراج ‘ بہت زیادہ مقدار میں
لیکوریا کی علامت :
لیکوریا کی سب سے واضح علامت عام طور پر زنانہ جنسی عضو سے ہونے والے اخراج میں غیرمعمولی پن ہے۔ یہ اخراج درج ذیل علامات جیسا ہوتا ہے:
۱۔ عام حالت سے گہرے رنگ کا اکثر پیلا یا سبز یا بھورا
۲۔ سفید لیکن مقدار میں زیادہ
۳۔ اخراج کے ساتھ خارش کا احساس ہو اور پیٹ کے نچلے حصہ میں درد ہوتا ہے۔
لیکوریا کی وجہ سے پیدا ہونے والی پیچیدگیاں:
لیکوریا ایک معمولی بیماری ہے اگر اس کو ابتداءمیں ہی پکڑ لیا جائے تو اور کسی کو اخراج میں کوئی غیرمعمولی پن محسوس ہو تو وہ فوراً ڈاکٹر سے رجوع کرے۔ بروقت علاج سے یہ مسئلہ دو دن یا ایک ہفتہ میںحل ہو سکتا ہے۔
ایک بات اچھی طرح ذہن نشین کرلینی چاہئے کہ لیکوریا میں کوئی بھی دوا ازخود استعمال نہیں کرنی چاہئے۔
بازار میں بہت سی کریمیں‘ مرہم اور گولیاں دستیاب ہیں۔ ان کو ماہر امراض نسواں کے مشورے کے بغیر استعمال نہیں کرنا چاہئے۔ کچھ خواتین لیکوریا میں استعمال ہونے والی ادویات سے الرجی ہوتی ہے اس کی وجہ سے مزید انفیکشن ہو سکتا ہے اور معاملہ مزید بگڑ سکتا ہے اس لئے بہتر ہے اس کی احتیاط کی جائے۔
لیکوریا کی منتقلی:
لیکوریا جو کہ خمیر کی طرح پھپھوندی سے منتقل ہوتا ہے اور عورت سے دوسری عورت میں بہت آسانی سے منتقل ہو جاتا ہے۔ جب ایک متاثرہ خاتون کے کپڑے ایک صحت مند خاتون کے کپڑوں سے ملیں گے اس کی وجہ سے یہ بیماری اسے بھی متاثر کر سکتی ہے۔ لہٰذا اپنے زیر جامہ اچھی طرح اعلیٰ قسم کے ڈیٹرجنٹ سے دھوئیں جو کپڑوں پر لگی فنگس یا داغ کو صاف کر سکے۔ لیکوریا غیرمحفوظ جنسی رابطے کی وجہ سے بھی ہوتا ہے۔ ایک شخص کے گندے اعضائے تولید عورت کے گندے اعضائے تولید کو انفیکشن سے متاثر کر سکتے ہیں جو کہ لیکوریا کا باعث ہوسکتے ہیں۔
لیکوریا سے بچاﺅ:
بہت سی احتیاطی تدابیر ہیں‘ جن پر عمل کرنے سے لیکوریا سے بچا جا سکتا ہے۔
چند رہنماءاصول درج ذیل ہیں:
تولیدی اعضاءکی صفائی ستھرائی بہت اہم ہے۔
اپنے جنسی تولیدی اعضاءکو غسل کے دوران دھوئیں۔
Anus اینس اور ولوا Vulva زنانہ اعضائے تناسل کی تہوں پر پانی بہت زیادہ بہائیں۔
نہانے کے بعد اپنے صاف تولئے سے تولیدی اور تناسلی اعضاءکو خشک کریں۔
نہانے کے بعد تولیدی اور تناسلی اعضاءکو گیلا مت چھوڑیں۔
بہت زیادہ پانی پیئیں تاکہ جسم سے زہریلے مادے خارج ہوں۔
اس بات میں بہت باقاعدہ رہیں کہ پیشاب کے بعد اچھی طرح اس حصے کو صاف کرلیں۔
اگر بارش یا کام کے دوران کپڑے بھیگ جائیں تو انہیں فوراً تبدیل کرلیں۔ نائیلون کے کپڑوں سے احتیاط برتیں‘ خاص طور پر گرمیوں کے موسم میں کیونکہ اس سے جنسی اعضاءمیں پسینہ جمع ہو جاتا ہے‘ زیر جاموں کیلئے سوتی کپڑا بہترین ہے۔
اگر آپ سے جنسی ملاپ کرنے جا رہے ہیںتواس بات کا اچھی طرح یقین کرلیں کہ آپ کا ساتھی کسی بھی قسم کے انفیکشن سے پاک ہو اس عمل کے بعد آپ کو اور آپ کے ساتھی کو اپنے جنسی اعضاءاچھی طرح دھونے چاہئیں‘ اس سے بہت سی بیماریوں سے بچ جائیں گے۔ جنسی عمل کے بعد اسے اپنا معمول بنا لیں۔
انگشت زنی سے مکمل پرہیز کیا جائے۔
تولیدی اعضاءکے اردگرد پاﺅڈر‘ پرفیوم اور دیگر کاسمیٹکس کا غیرضروری استعمال نہ کیا جائے۔ تناﺅ اور دباﺅ کو کم کرنے والی ورزشیں روانہ کی جائیں‘ صبح سویرے سیر کی جائے‘ اگر جسم دباﺅ سے پاک ہو گا تو اس میں بیماری کے خلاف مدافعت زیادہ ہوگی۔
لیکوریا سے بچاﺅ کیلئے خوراک:
لیکوریا سے بچاﺅ خوراک میں تبدیلی لا کر بھی کیا جا سکتا ہے۔ اس تبدیلی کا مطلب ہے‘ نقصان دہ غذا کو خوراک میں سے نکال کر کچھ ایسی غذاﺅں کو خوراک میں شامل کرنا جو فائدہ مند ہوں۔
درج ذیل خوراک لیکوریا سے متاثر خاتون کیلئے مثالی ہے:
چینی سے پرہیز کرنا چاہئے اگر اخراج بہت زیادہ مقدار میں ہو‘ اس کا اطلاق تمام میٹھی چیزوں پر ہوتا ہے جیسے کہ مٹھائی‘ پیسٹری‘ کسٹرڈ‘ آئس کریم اور پڈنگ‘ کھمبیاں یا مشروم سے پرہیز کرنا چاہئے کیونکہ یہ بھی پھپھوندی کی ایک قسم ہے۔ کچھ کھمبیاں آلودگی پیدا کرتی ہیں۔
گرم اور مصالحہ دار اشیاءجو کہ پیچیدگیاں پیدا کرتی ہیں‘ ان کو خوراک میں کم سے کم استعمال کرنا چاہئے۔
ہومیوپیتھک ادویات اور لیکوریا :
1- کلکریا کاربونیکا(کیلشیم کاربونیٹ) 200
ایک بہترین انٹی سورک دوا۔اور اس کا دائرہ کار بہت وسیع ہے اس کا مریض سرد مزاج اور موٹاپا کی طرف مائل ہوتا ہے۔اس دوائی کا لیکوریا مقدار میں زیادہ جلن اورخارش والا ہوتا ہے جس کا رنگ دودھ کا سا اور کافی گاڑھا ہوتا ہے۔اور یہ سن بلوغت سے پہلے ہوتا ہے کلکریا سے بہترین رزلٹ لینے کے لیے سب سے پہلے ایک خوراک سلفر 200صبح نہار منہ زور دیں
2- پلساٹیلا نائگرہ 200-30
اس دوائی کی مریضہ بزدل‘فوراً اور سب کے سامنے آنسو بہانا‘اندر ہی اندر گم میں گھلنا خوش طبع اور چڑچڑاپن فرما بردار اور دوسروں کی مرضی کے آگے جھکنا ساون کے بادل کیطرح کبھی رونا اور کبھی ہنسنا نہایت ہی نرم دل خواتین جن میںخون کی کمی بھی پائی جاتی ہے ۔اور اس دوائی کو اعضاءتناسل کی دوا کہا جا سکتا ہے ۔لیکوریا عموماً گاڑھا چیپچپا اور سبزی مائل زرد ہوتا ہے اور یہ مرغن غذا ‘پھل‘کیک گرم غذا لینے سے بڑھتا ہے
3-سیپا200-30
یہ آلات تناسل زنانہ پر بہترین اثر کرنے والی دواءہے۔اور یہ نازک مزاج اورسفید رنگ والی خواتین جو جلد غصہ میں آجائیں سردی محسوس کریں اور ہر کام کی جلدی ہو اوران کی ناک اور گالوں پر بھورے رنگ کے داغ ہوں‘سیپا کی بیماری جوانی سے سن یاس کی عمر تک دیکھنے میں آتی ہیں۔مریضہ غمگین اور پست حوصلہ ہوتی ہے سیپا ہمدردی برداشت نہیں کرتی۔ایسی خواتین میں لیکوریا زردی مائل سبز اور قدرے بدبودار ہوتا ہے اور اکثر اعضا میں سوزش پیدا کردیتا ہے اور اعضاءمیں نیچے کی طرف دباﺅ کا احساس اور ایسا محسوس ہو جیسے شرمگاہ کے راستے ہر عضو باہر نکل آئے گا اور مجبوراً مریضہ ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھتی ہے
4- کریازوٹ200-30
لیکوریا تیز جس میںسوزش پیداکرنے والی رطوبتیں پائی جاتی ہیں جس کی وجہ سے شرم گاہ میں ٹیس اور شدید جلن ہوتی ہے اور لیکوریا زدر رنگ جس کی وجہ سے کپڑوں پر زرد رنگ کے نشان پڑھ جاتے ہیں‘شرم گاہ میں شدید خارش ہوتی ہے اور خواتین اپنے ہاتھوں سے ملتی رہتی ہیں
5- بوریکس200-30
اس دوائی میں لیکوریامعمولی سا گرم صاف‘مقدار میں زیادہ اور انڈے کی سفید کی ماندہ اور سوزش پیداکرنے والا ہوتا ہے۔ اور رانوں تک جا پہنچتا ہے۔مریضہ بے چین ہوتی ہے
6- ایلومینا200
اس دوائی میں لیکوریا کی رطوبت کو خشک کرنے کی زبردست صلاحیت ہے۔مریضہ کے ہاتھ پاﺅں سن ہوں‘ایسا لیکوریا جو ایڑیوں تک بہے‘بہت زیادہ مقدار میں لیکوریااور اعضائے تناسل میں جلن اور سوجن ہو جائے لیکوریا کی رطوبت اعضاءکو چھلتی جائے اور چلنا مشکل ہو جائے اور ٹھندے پانی سے فرج کو دوھونے سے آفاقہ ہوتا ہے
7- گریفائٹس200-30-6
لیکوریا سفید پتلا زیادہ مقدار میں جوچلنے سے بڑھے اور کمر میں کمزوری محسوس ہو اس کی مریضہ موٹی جلد کھردری اور زیادہ سردی محسوس کرتی ہے
8-سفلینم 1000
لیکوریا‘مقدار میں زیادہ زردی مائل سبز‘چھوٹی لڑکیوں میں لیکوریا تیز پانی کی طرح جس کی زیادتی رات کے وقت بستر میں لیٹنے سے ہو اور ضروری بات مریضہ آتشک کی ہسٹری رکھنے والی ہوتی ہے
ہومیوپیتھک میں بے شمار ایسی ادویات جن کی اگر تفصیل لکھنا شروع کی جائے تو کافی دن لگ سکتے ہیں آپ کو چند اہم ادویات کے بارے میں تھوڑی معلومات فراہم کرنے کی کوشش کی گئی ہے اگر اس میں کوئی غلطی رہ گئی ہو تو اس کی ضرور نشاندہی ہونی چاہیے شکریہ
دیگر اہم ادویات
آرسنک البم‘نائٹرک ایسڈ‘ایمونیم کارب‘نیٹرم میور‘کالی کارب‘فیرم میٹ‘چائنا‘تھلاسپی برسہ‘سٹینم‘کنگ اف ریمیڈی سلفر‘فاسفورس‘کالی بائیکروم‘کلکیریا فاس‘لائیکوپوڈیم‘نیٹرم کارب‘ہائیڈراسٹس‘ہیپر سلف اور دیگر ادویات
اذخود ادویات کا استعمال خطرناک ثابت ہوسکتا ہے تما م ادویات اپنے معالج کی ہدایت پر استعمال کریں
Sunday, December 27, 2009
Obesity and Homeopathy
ڈاکٹر محمد امین
موٹاپا
جسم میں موجود چربی کے ذخیروں میں ضرورت سے زیادہ چربی کے اکٹھا ہونے کی حالت کو موٹاپا کہتے ہیں۔ یہ اہم غذائی خرابی سے پیدا ہونے والی پیچیدگی ہے جوکہ زیادہ تر دنیا کے امیر ممالک میں وقوع پذیر ہوتی ہے۔
موٹاپے کی وجوہات:
عمر: یہ تمام عمر کے لوگوں میں ہوتا ہے مگر عام طور پر درمیانی عمر کے لوگ موٹاپا کا شکار زیادہ ہوتے ہیں۔
جنس: ایک اندازے کے مطابق23 فیصد مرد اور25.4 عورتیں موٹاپے کا شکار ہوتے ہیں۔
غذائی عادات:۔ موٹاپے کا سب سے بڑا سبب زیادہ کھانا یا غلط اقسام کی غذا کھانا ہے۔
موروثی وجوہات: بہت سے کیسز میں موٹاپے کی خاندانی تاریخ بھی مثبت کردار ادا کرتی ہے۔
جسمانی سرگرمی:۔ یہ ان لوگوں میں جو سست عادات کے حامل ہوتے ہیں کام کاج سے کترانا بیٹھنے کو ترجیح دینا میں زیادہ ہوتا ہے چست عادات والے لوگ جو زیادہ بھاگ دوڑ میں لگے رہیں کم موٹاپے کا شکار ہوتے ہیں
نفسیاتی وجوہات:۔ جذباتی انتشار کے نتیجے میں زیادہ کھانے کی عادت انسان میں بڑھتی ہے جوکہ موٹاپے کی طرف لے جاتی ہے۔
معاشی پس منظر:۔ ترقی پذیر ملکوں میں یہ امیروں میں عام مسئلہ ہے جوکہ اپنی خوراک میں لحمیات روغنیات اور نشاستہ کا استعمال زیادہ کرتے ہیں اور سست عادات کے مالک ہوتے ہیں ۔ جب کہ ترقی یافتہ ممالک میں یہ کم معاشی حیثیت والے لوگوں کے گروہوں میں عام ہے۔
ایڈوکرائن کے سبب: اینڈوکرائن گلینڈ بلا نالی گلینڈ سے رطوبت کے اخراج جیسے ہارمون بھی کہتے ہیں کی خرابی بھی موٹاپا کا اہم سبب بنتا ہے۔تھائی رائیڈ ہارمونز کی وجہ سے اور جسم میں چکنائی کا بڑھتا ہوا تناسب وغیرہ بھی موٹاپے کا باعث ہیں۔
حمل: حمل کے دوران ایک عورت میں چربی کی مقدار بڑھتی ہے جس کی وجہ سے جسم کا وزن4.5 کلو گرام بڑھ جاتا ہے اور یہ حمل کے دوران بڑھتا ہی چلا جاتا ہے۔
جگر:ہمارا جگر غذا میں موجود غذائی اجزاءکو کیمیائی عمل سے گزارنے اور ان کو جسم کے دوسرے حصوں تک بھیجنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے گلوکوز یا چربی کی جگہ میں غیر معمولی ترسیل ذیابیطس اور جسم میں کولیسٹرول کے بڑھ جانے کا سبب ہوتی ہے۔ چربی کی وجہ سے بڑھا ہوا جگر بھی عام طور پر ان لوگوں میں مشاہدہ میں آیا ہے جوکہ موٹے ہوتے ہیں یا جو انسولین کی مزاحمت سے متاثر ہوں جگر کے بارے میں عام خیال ہے کہ یہ دل کی بیماری کے خطرے کو کنٹرول کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔
جنیاتی اسباب:۔ prader-willi syndrom،پیدائشی ذ ہنی پسماندگی اور زیابطیس لارنس مون بیڈی سینڈروم موٹاپا بڑھانے کا اہم سبب بنتے ہیں
Hypothalamic Syndrom اور ہائپوتھیلمس کے زخموں اور رسولیوں کی وجہ سے Polyphagiaبہت زیادہ کھانا بسیار خوری موٹاپا بڑھتا ہے۔
موٹاپے کی اہم علامات:
1۔ نارمل جسمانی وزن سے جسم کا وزن 20 فیصد زیادہ ہونا۔
2۔ مردوں میں شانے کی نوک پر چربی کی تہہ2.5 سم سے زیادہ یا عورتوں میں ٹرائی سیپ کا درمیانی حصہ۔
طبی علامات:۔ جسم کا وزن تیزی سے بڑھتا ہے اور آہستہ آہستہ جسم کی ساخت اور بناوٹ میں تبدیلی آنا شروع ہو جاتی ہے۔ چربی سارے جسم میں ایک جیسی مقدار میں تقسیم ہو جاتی ہے مگر بعض حالات میں جسے Cushing's syndromمیں یہ سر یا گردن کندھوں اور شانوں میں بڑھ جاتی ہے اور ٹانگوں کو چھوڑ دیتی ہے(بھینس کی طرح کی تقسیم) جیسے جیسے جسم بھاری ہوتا جاتا ہے۔ حرکات آہستہ ہوتی جاتی ہیں اور کم حیاتی طاقت کی وجہ سے ذرا سی مشقت سے سانس پھول جاتا ہے۔
بعض اوقات ہوا کا اخراج بہت کم ہو جاتا ہے سانس والے عضلات کی اونچی حالت کی وجہ سے یہ موٹاپے کی وجہ Hypoventilation syndrome کہلاتا ہے۔ یا اس کو رک رک کر سانس آنے سے شناخت کیا جاتا ہے آکسیجن کی ترسیل میں کمی، جلد کا نیلا ہوجانا۔ سانس کی نالی میں سوزش ہوا کے اخراج میں خرابی، دائیں ونٹریکل میں رکاوٹ دائیں ونیٹریکل کا بڑھ جانا اور فیل ہو جانا جیسے کہ چربی میں حرارت کے زائل ہونے کے اثرات ہوتے ہیں یہ گرمیوںکے موسم میں بہت زیادہ بے آرامی کا سبب ہوتی ہے۔
خواتین میں ماہانہ نظام کی خرابی بھی موٹاپا کا اہم سبب ہو سکتی ہے۔
مریض کو اپنی ٹانگوں کے وزن پر بیٹھنے میںمشکل پیش آتی ہے کرسی پریا کسی گاڑی میں اٹھنے اور بیٹھے میں مشکل ہو سکتی ہے یا آہستہ آہستہ کچھ مریض مکمل طور چلنا پھرنا بند کر دیتے ہیں اور کسی کی مدد کے بغیر کچھ نہیں کر سکتے۔
پیچیدگیاں:
1۔ میکازکی: جسم کے زیادہ وزن کے سبب، جسم کا وزن اٹھانے والے جوڑوں مثال کے طور پر گھٹنا، ٹخنہ کولہا وغیرہ میں بھر بھرا پن اور تبدیلیاں پیدا ہونے لگتی ہیں۔ پیٹ میں ہرنیا ہو سکتا ہے ۔ ایسوفیگس میں ہرنیا وریدوں کا تنگ ہونا اور پاﺅںچپٹا ہونا جیسی بیماریاں لاحق ہو سکتی ہیں۔
2۔ انفیکشن: جلد کی تہوں میں پھیلاﺅ کی وجہ سے صفائی برقرار نہیں رکھی جا سکتی اس لئے فنگس کی وجہ سے یا دوسرے انفیکشن ان جگہوں پر بہت عام ہو جاتے ہیں۔
3۔ کارڈیو وسکولر:(دل کی بیماریوں سے متعلق):
ہائپر ٹینشن(بلڈ پریشر کا بڑھ جانا) خون کی نالیوں میں کولیسٹرول کا زیادہ ہوجانا جیسی بیماریوں لاحق ہو سکتی ہیں۔ درمیانی عمر کے افراد کو انجائنا یا ہارٹ فیل ہو سکتا ہے۔
4۔ میٹابولک: ذیابیطس، خون کی نالیوں کا تنگ ہو جانا کولیسٹرول کی پتھریاں گنٹھیا وغیرہ ہو سکتے ہیں۔
5۔جسمانی پیچیدگیاں:۔ مختلف جسمانی پیچیدگیاں موٹاپا کا شکار لوگوں میں پیدا ہو سکتی ہیں
6۔ حمل کے دوران اور عمل جراحی میں بھی مختلف خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔
7۔ خاص اقسام کے سرطان میں ناقابل بیان اضافہ ہو سکتا ہے خاص طور پر پتہ ‘بڑی آنت‘ اینڈ ومیٹیریم اور چھاتی وغیرہ۔
زندگی کی امید:
موٹے لوگوں میں زیادہ لمبی زندگی کی امید کم ہو جاتی ہے بانسبت ان لوگوں کے جو زیادہ موٹے نہیں ہوتے
علاج
Aغذا پر کنٹرول:
ایک متوازن غذا مریض کے متوقع وزن کے لئے مناسب ہوتی ہے۔ غذا میں بھرپور لحمیات شامل ہونی چاہئیں جبکہ چربی اور نشاستہ کم ہونا چاہئے۔1000 حراروں کی خوراک میں 100 گرام نشاستہ 50 گرام لحمیات اور 40 گرام چربی ہونی چاہئے الکوحل سے پرہیز کیا جانا چاہئے۔ معدنیات: حیاتین، پانی اور نمکیات ممنوع نہیں ہونے چاہئیں۔
B ورزش: جسمانی ورزش کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے اور اس کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔
C ادویات: بھوک روکنے کی ادویات خاص طور پر استعمال کی جاتی ہیں۔ میٹابولزم کے عمل کو تیز کرنے کے لئے بعض اوقات تھائی رائیڈ ہارمون بھی استعمال کئے جاتے ہیں۔
Dڈائینگ یا کھانا نہ کھانا ڈائٹنگ یا فاقہ کرنا بعض اوقات معاون ثابت ہوتا ہے۔
E جراحی: مخصوص حصوں کے موٹاپے کو کم کرنے کے لئے جراحی بھی معاون ثابت ہو سکتی ہے۔ عمل جراحی کو مختلف گروہوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ معدہ کو چھوٹا کرنا معدہ کا بائی پاس۔ گیسزوپلاسٹی۔ چھوٹی آنت میں عمل جراحی اور دیگر طریقہ کار طریقہ کار۔
Roux -en- Y procedure اس میں معدہ کے سائز کو چھوٹا کر دیا جاتا ہے اور اس میں بھرے ہونے کا احساس تخلیق کیا جاتا ہے قے آنا اس کا عام مضر اثر ہے۔
لائپو سکشن: جسم کے مخصوص اعضاءسے چربی کو ختم کر دیا جاتا ہے عام طور پر اس کے بعد جسم کے دوسرے حصوں کا وزن بڑھ جاتا ہے۔
F یوگا: کچھ آسن ایسے ہیں جو وزن کم کرنے میں بہت موثر ثابت ہوتے ہیں جسے سکھ آس، کندھوں کو پھیلانا، سوریا نمسکار آردھا مدسینڈر آسن،ٹدآسن فش پوز(مٹیاآسن) ساﺅ آسن کپالا بھاٹی انولوما ولوما وغیرہ۔
ہومیوپتھی طریقہ علاج:
کلکیریا کارب: یہ اس شخص کے لئے استعمال کی جاتی ہے جس کو بہت پسینہ آئے اور وہ کھانا کھانے کے فوراً بعد بھوک محسوس کرے بہت کھانا اور سست نظام ہضم، ناقابل ہضم اشیاءکی خواہش کے ساتھ بدہضمی۔ ذرا سی مشقت سے جسم کے اوپر کے حصے میں بہت زیادہ پسینہ آنا خاص طور پراہم ہے۔
سنکونا آف(چائنا): یہ موٹاپے میں بھوک کو کم کرنے کے لئے استعمال کی جاتی ہے۔ بدہضمی کچے پھل اور سبزیاں کھانے کے بعد یہ ان لوگوں کے لئے تجویز کی جاتی ہے۔ جن کا وزن بہت زیادہ ہو مگر وہ اندرونی طور پر کمزور ہوں۔
لائیکوپوڈیم: موٹاپا جوکہ جگر اور نظام ہضم کی خرابی کی وجہ سے بڑھے۔ میٹھے کی خواہش کم ہوجانا، بھوک کم ہونا بدہضمی پیٹ کے نچلے حصے میں گیس کی کیفیت کے ساتھ بہت بھوک لگنا مگر کچھ نوالوں کے بعد پیٹ بھرا ہوا محسوس کرنا۔
تھائیرائیڈ نیم: موٹا پا تھائی رائیڈ کی خرابی کی وجہ سے بڑھنا یہ دوائی ایک طاقتور/ پیشاب آور ہے اور مائیکسوڈیما اوراستسقاءکی دیگر اقسام میں بہت مفید ہے۔
کیلوئراپس: یہ دوائی وزن کم کئے بغیر چربی گھٹانے کےلئے استعمال ہوتی ہے جیسے کہ گوشت کم کر دیا جائے گا پٹھے سخت اور مضبوط ہوں معدہ میں جلن ایک اچھی رہنما علامت ہے۔
اینٹم کروڈ: یہ دوران مریضوں کو دی جاتی ہے جن میں موٹا ہونے کا رحجان زیادہ کھانے اور بدہضمی اور زبان پر سفید تہہ کی وجہ سے ہے۔
فائٹولیکا بیری: یہ وزن کم کرنے کی بہت عام تیار دوا ہے۔
فیوکس ویسی کولس: یہ دوا کلکیریا کا ربونیکا کے بعد دی جاتی ہے ۔ یہ مدر ٹنکچر میں دی جانی چاہئے یہ بدہضمی کے حالت میں بہت مفید ہے گیس اور قبض میں مفید ہے اور ان لوگوں کے لئے بہت موثر ہے جن کے تھائی رائیڈ غدور بڑھے ہوتے ہیں۔
گریفائیٹس: موٹی سفید عورتوں میں ماہواری نظام کے دیر سے آنے کی وجہ سے ہونے والے موٹاپے میں دی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ ان لوگوں کو دی جاتی ہے جن کو قبض ‘ جلد کا کوئی نہ کوئی مسئلہ ہواور جنسی رغبت کھو چکے ہوں
کارلسباد:یہ دوا جگر پر بہت اچھا کام کرتی ہے اگر جگر کے اوپر چربی اور وزن میں اضافہ ہونا شروع ہوگیا ہو تو یہ دوائی ایسے موٹاپا کو ختم کرنے میں بہت مفید ہے
فائٹولائن:یہ جسم میں فالتو چربی کو کم کرنے میں بہت اہم دوا ہے اور یہ ایسے مریضوں کو دی جاتی ہے جن کو چلنے پھرنے اٹھنے بیٹھنے میں دشواری ہو اور دل کی دھڑکن نارمل سے کہیں زیادہ بڑھ جایا کرے تو بہتر کام کرتی ہے‘سانس لینے میں دشواری‘زیادہ کام کرنے پردم کشی‘معدہ میں گیس کا پر شور اخراج اور ڈکار آئیں تو یہ مدرٹنکچر میں بہت اچھے رزلٹ دیتی ہے
Esculentine : یہ دو چربی کو کم کرنے کے لئے مفید ہے جو فائٹولائن کے ساتھ ادبدل کر استعمال کی جاتی ہے اور اچھا اثر کرتی ہے جس سے موٹاپا جلد کم ہونا شروع ہوجاتا ہے اور یہ ادویات ٹنکچر کی شکل میں دی جاتی ہیں۔
ہومیوپیتھک کی دیگر ادویات میں جو مریض کی علامات کے مطابق استعمال کی جا سکتی ہیں یہ ہیں۔امونیم کارب‘امونیم میور‘آئیوڈیم‘ارجنٹم نائٹریکم‘کوفیاکروڈ‘کیپسیکم‘فیرم فاس‘اگنیشا‘کالی کارب‘کالی بائیکروم‘سٹیفی ‘اورم میٹ‘نیٹرم میوراوردیگر
اذخود ادویات کا استعمال خطرناک ثابت ہوسکتا ہے تما م ادویات اپنے معالج کی ہدایت پر استعمال کریں
Friday, December 11, 2009
Acne and homeopathy Treatments
ہومیوپیتھک ادویات اور کیل ‘مہاسے‘دانے
سلفر:عام طورپر ہم کیل‘مہاسے اور چہرے کے دانوں کا علاج اس دوا سے شروع کرتے ہیں
بربرس اکوی فولیم:ہومیوپیتھک کی یہ دوائی چہرے کے دانوں کی مخصوص دوا کے طور پرجانی جاتی ہے جو خاص کر مدر ٹنکچر کی صورت میں استعمال کی جاتی ہے10قطرے صبح دوپہر اور شام استعمال کرنے سے بہترین رزلٹ حاصل ہوجاتے ہیں اور جلد کی رنگت کو نخارنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے اور چند دن کے استعمال سے رنگ سرخ و سفید ہو جاتا ہے
مرک سال:یہ پرانی چہرے کی ایکنی ‘دانوں میں پیپ اور سوزش کیلئے بہترین ہے
کلکریا سلیسلیکا:اگر شدید قبض کی وجہ سے چہرے پر ایکنی‘داغ‘دانے ‘اور مہاسے نکل آئیں تو یہ دوا اہم کردار ادا کرتی ہے
بووسٹا:چہرے پر میک اپ اور بہت زیادہ کاسمیٹک کے استعمال سے اگر دانے نکل آئیں تو یہ دوائی کامیابی سے دی جا سکتی ہے
کریازوٹ:سفید رنگت والی لڑکیوں/لڑکوں کے چہرے پر دانے ہوں سورنیم:چربی اور گوشت کھانے کی وجہ سے اگر چہرے پر بہت زیادہ دانے نکل آئیں تو یہ دوا دیں
یوجینیا جمبوس: دانے نکلنے بعد سخت ہو جائیں تو اس دوا سے بہت جلد ٹھیک ہو جاتے ہیںایسڈ فاس:مشت زنی کے بعد نکلنے والے چہرے کے دانوں کی بہترین دوا ہے
گریفائٹس‘مگنیشیامیور‘سورنیم‘سپیا:خواتین میں اگر حیض آنے سے پہلے چہرے پر دانے نکلیںتویہ ادویات ضرور دیکھیں
سائکلیمن‘ڈلکامارا‘کالی بروم‘میگنیشیا میور‘سورنیم‘سینگونیریا:خواتین میں اگر حیض کے دوران چہرے پر کیل مہاسے نکلیں تو ان ادویات کے استعمال سے ٹھیک ہو جاتے ہیں
میڈ ورنیم:حیض کے فورابعد اگر خواتین کے چہرے پر دانے نکل آئیں تو یہ میڈورنیم سے ٹھیک ہو جائیں گے
کروٹیلس ہریڈس:خواتین میں حیض کا خون دیر سے آنے کی وجہ سے اگر چہرے پر دانے نکلیں تویہ دوا دیں
کاربوانیملس‘یوجینا جمبوس‘کالی بروم‘کالی آئیوڈیٹم‘سلفر:اگر چہرے پر ایک یا دو سخت ابھارنکل آئیں تو
بیلاڈونا‘سبائنا‘سارسپریلا‘سیپیا:خواتین میں دوران حمل ہونے والی ایکنی کیلئے بہت اچھا کام کرتی ہیں
پوڈوفائلم:سن بلوعت کی عمر میں جب لڑکیوں کو پہلا حیض شروع ہوتا ہے اگر ان کے چہروں پر دانے ایکنی نکل آئیں تو یہ دو بہت فائدہ دیتی ہے
کاربوانیملس:کوپیوا‘کالی بروم‘مرک سال سلیشیا‘تھوجا:ایسی ایکنی‘دانے جن کے بننے پر چہرے پر نشان چھوڑیں تو
انٹی مونیم کروڈ‘کاربویج‘لائیکوپوڈیم‘نکس وامیکا‘پلساٹیلا:چہرے داغ مہاسے اور دانے امراض معدہ کی بیماریوں کی وجہ سے ہوں تو یہ ادویات ضرور ان کا تھیک کردیں گی
--------------------------------------------------------------------------------
چہرے کے داغ‘کیل مہاسے دانے ختم کروانے کیلئے
الرحیم ہومیوکلینک سے دوائی بذریعہ پارسل آپ تک بھیجنے کی سہولت موجود ہے
Saturday, August 29, 2009
Anxiety and depression treatment in homeopathy
کم نوعیت کے بے چینی یا گھبراہٹ سے پیدا ہونے والے خلل دماغ کیلئے صرف نفسیاتی علاج ہی کافی ہے۔ عام طور پر ڈاکٹر ادویات اور نفسیاتی علاج کو ساتھ ساتھ ترجیح دیتے ہیں۔ اس بیماری سے شدید متاثرہ مریض کیلئے بہت سے مریض اس ملے جلے علاج کے اچھے نتائج ظاہر کرتے ہیں۔ بہ نسبت علیحدہ علیحدہ ادویاتی علاج یا نفسیاتی علاج کے کیونکہ بے چینی یا گھبراہٹ کے علاج کیلئے مختلف نوعیت کی ادویات کی بہت سی اقسام موجود ہیں اور ڈاکٹر اس بات کا صحیح اندازہ قبل از وقت نہیں کر سکتے کہ کون سی ادویات کسی خاص مریض کیلئے مددگار ثابت ہوں گی۔
اکثر دفعہ ڈاکٹر کو 6 سے آٹھ ہفتے تک مختلف ادویات آزمانا پڑتی ہیں‘
کسی ایک موثر دوا کے نتائج حاصل کرنے کیلئے۔ یہ علاج کی آزمایشوں کا یہ مطلب نہیں کہ مریض کی مدد نہیں کی جا رہی یا ڈاکٹر ناتجربہ کار ہے۔
اگرچہ بے چینی یا گھبراہٹ سے پیدا ہونے والا خلل دماغ تشخیص میں آسان نہیں لیکن کئی وجوہات ایسی ہوتی ہیں مریض کی شدید علامات میں مدد کرتی ہیں اور وہ مریض کیلئے اہم ہیں اور ان سے مدد لی جاتی ہے۔
بے چینی یا گھبراہٹ بذات خود کچھ نہیں ہوتی بلکہ یہ پڑھتی ہے خوف کے دوروں سے فوبیا سے اور وقفے وقفے سے ذہنی تناو سے۔ غیر علاج شدہ بے چینی اور گھبراہٹ سے پیدا ہونے والے خلل دماغ اکثر بعد میں ڈپریشن تشخیص ہوتے ہیں اور مریض کی تعلیمی قابلیت یا کام کرنے کی صلاحیت پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ بہت سے گھبراہٹ یا بے چینی کے مریض الکوحل یا منشیات کے عادی ہو جاتے ہیں۔ اپنی بیماری کی علامات کا علاج کرتے کرتے۔
اس کے علاوہ بچے اپنے ماں باپ سے بے سکونی کی عادت سیکھ جاتے ہیں۔ وہ بالغ لوگ جو کہ بے چینی سے پیدا ہونے والے خلل دماغ کا علاج کرا چکے ہوتے ہیں اپنی خاندان میں موجود ان لوگوں کی مدد کے قابل ہوتے ہیں جو اس بیماری سے متاثر ہوں۔ ان لوگوں کی نسبت جو کہ ابھی تک علاج نہ کرا سکے ہوں۔
علاج
ایکونائٹ
خوف کا حملہ انتہائی شدت کے ساتھ اچانک ہو جانا (خواہ وہ خوف موت ہی کا کیوں نہ ہو) اس دوا کی نشاندہی کرتا ہے۔ بے انتہا گھبراہٹ کی حالت جس کے ساتھ دل کی دھڑکن شدید ہو سکتی ہے سانس رک کر آنا اس کے ساتھ چہرہ سرخ ہو جانا۔
علامات
(1)اچانک شدید خوف کی وجہ سے بیماری کا حملہ
(2)بے چینی اور بے آرامی شکایات کے ساتھ
(3) خوف جو کہ نمایاں نہیں ہوتا
(4) جاگنے سے بیہوش ہو جانا یا چکر آنا
(5) اچانک بخار آ جانا جس میں ایک گال سرخ اور ایک پیلا ہو۔
(6) درد کی برداشت نہ ہونا
(7) درد سے پیشاب آنا بے چینی کے ساتھ
(8) درد جن کے ساتھ سن ہونا اور چبھن ہو
(9)آنکھ کا درد اور زخم
(10)شدید سردرد
(11) ناقابل برداشت پیاس
ارجینٹم نائٹریکم
یہ دوا اس وقت استعمال کی جاتی ہے جب کسی بڑے واقعے سے پہلے گھبراٹہ یا بے چینی شروع ہو جائے (مثال کے طور پر نوکری کیلئے انٹرویو‘ امتحان‘ عوام کے سامنے تقریر‘ شادی‘ معاشرتی وابستگی وغیرہ)
علامات
(1) جذباتی بے قاعدگی (2) خوف (3) بے چینی (4) مسلسل دماغی جھنجھلاہٹ بے باقاعدگی اور طوالت کے ساتھ (5) چکر آنا (6) اسہال (7)میٹھے اور نمک کی شدید خواہش‘ تیز ذائقوں کی خواہش (8) بے چین بے ہنگم سوچوں اور خیالات کے رحجان کا حامل
آرسینیکم البم
یہ دوا ان لوگوں کو تجویز کی جاتی ہے جو کہ اپنی صحت کے بارے میں بہت بے چین ہوتے ہیں اور ترتیب اور تحفظ کے بارے میں شدت پسند ہوتے ہیں۔ خوف کے دورے اکثرآدھی رات کو یا صبح کے ابتدائی گھنٹوں میں پڑتے ہیں۔
وہ شخص بے زاری محسوس کرسکتا ہے یہاں تک کہ وہ بے سکون اور تھکا ہوا رہے اور بے چینی سے حرکت کرتا رہے ایک جگہ سے دوسری جگہ حرکت کرتا رہے۔ ان لوگوں کو بے چینی کے سات بدہضمی اور دمہ کا حملہ بھی ہوسکتا ہے اور یہ لوگ روایتی طور پر حساس ہوتے ہیں چھوٹی چھوٹی باتوں کے بارے میں اور بہت صاف ستھرے ہوتے ہیں اور وہ ہر چیز کو قابو میں رکھنے کی بہت زیادہ ضرورت محسوس کرسکتے ہیں۔
علامات
(1) بے چین (2) بے چینی جس کے ساتھ نزلہ زکا م اور چھینکیں ہوں (3) دمہ آدھی رات کے بعد بدترین صورت میں (4) خوف‘ لیٹتے وقت گھٹن کا احساس ‘ خوفزدہ ہونا (5) بے چینی‘ بے سکونی (6) بے آرام ہونا (7) نیند کا آنا مگر مکمل طور پر نہ سو سکتا (8) بار بار پیاس محسوس کرنا (9) ہوا کی خواہش مگر ٹھنڈ سے حساس ہونا (10) کمزوری اور بیزاری (11) قے آنا اسہال یا اسہال کے بغیر کچھ کھانے اور پینے کے بعد۔
کلکیریا کاربونیکا
اس دوائی سے فائدہ اٹھانے والے لوگ سرد مزاج ہوتے ہیں۔ ہلکی سی ٹھنڈ ان پر براہ راست اثر کرتی ہے۔ انہیں خود کو گرم رکھنے میں مشکلات درپیش آتی ہیں۔ ان میں میٹھے کی خواہش شدید ہوتی ہے اور جلد تھک جاتے ہیں یہ قابل بھروسہ ٹھوس لوگ ہوتے ہیں جو کہ جسمانی بیماری کا بہت زیادہ اثر لیتے ہیں یا بہت زیادہ کام کا اور خوفزدہ ہو جاتے ہیں کسی نقصان سے ان کی سوچیں تھکن کے باعث منتشر اور پریشان ہوتی ہیں۔ پریشانیاں اور بری خبریں ان کو مشتعل کر دیتی ہیں ان کے اندر ایک خوف کسی تباہی یا نقصان کا بڑھتا جاتا ہے اپنے لئے یا دوسروں کیلئے بلندی کا خوف اور بند جگہوں کا خوف بھی عام ہیں۔
علامات
(1) پسینہ بڑھنا (2)رات کو پسینہ آنا (3) ٹھنڈے ہاتھ پاﺅں ہونا (4) چکرآنا (5) متلی ہونا (6) بہت زیادہ بھوک لگنا (7) چکنائی ناپسند کرنا (8) انڈوں کی شدید خواہش (9) روشنی سے آنکھوں کی حساسیت (10) ذرد چہرہ (11) سست ہاضمہ کے ساتھ زیادہ بھوک۔
جیلسیم
یہ دوا اس وقت تجویز کی جاتی ہے جس وقت آپ کو کمزوری کا احساس ہو کپکپاہٹ اور دماغی تھکن (جیسے خوف سے مفلوج ہو یاجانا) یہ اسوقت بھی کارآمد ہوتی ہے جب کوئی شخص کسی متوقع واقعہ کی وجہ سے بے چینی محسوس کرے ۔ جیسے عوام کے سامنے آنے کا خوف یا انٹرویو وغیرہ۔ یا امتحان سے پہلے بے چینی‘ دندان سازکے پاس جانا یا اسی طرح کے دباﺅ والے واقعات ٹھنڈا ہونا پسینے آنا اسہال اور سردرد جو کہ عام طور پر پریشانی کی وجہ سے ہو۔ ہجوم کا خوف گرنے کا خوف یا یہ خوف کہ دل رک سکتا ہے جیلسیئم کی دوسری علامات ہیں۔
علامات
(1)گھبراہٹ (2) خوف (3) امتحان یا عوام کے سامنے کسی مظاہرے سے پہلے بے چینی (4) تھکن اور جسم میں درد (5) ہاتھ پاﺅں سر اور پلکوں کا بھاری پن (6) سردرد (7) چھونے سے دکھن کا احساس (8) گلا خراب ہونا (9) پیاس کم لگنا (10) چکر آنا‘ کپکپاہٹ‘ تھکن بیزاری۔
اگنیشیا امارا
ایک حساس شخص جو کہ غم سے بے چین ہوجاتا ہے‘ نقصان سے ناامیدی سے تنقید سے تنہائی سے (یا کسی بھی جذباتی دباﺅ سے)اس دوائی سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ اس دوا کا بنیادی جز جذباتی دباﺅ ہے خاص طور پر ناامیدی یا دکھ دوسری علامات ہیں دفاعی رویہ‘ مسلسل آہیں بھرنا یا مزاج کی تبدیلی ہے۔ یہ شخص غیر متوقع طور پر بہت زیادہ ہنسنا شروع کردیتا ہے یا رونا شروع کردیتا ہے۔
علامات
(1) قے ہونا (2) گلے میں کچھ پھنسنے کا احساس ہونا (3) بخار کے ساتھ ٹھنڈ لگنا (4) ٹھنڈ کے دوران پیاس لگنا (5) گرمی سے ٹھنڈ کا ختم ہونا یا آرام آنا (6) کمر یا پیٹ میں مروڑ کے ساتھ درد ہونا (7) سر میں درد اس احساس کے ساتھ جیسے کوئی سر میں کیل ٹھونک رہا ہو (8) بہت زیادہ حساس جلد (9) سوچوں میں گم رہنا (10) اداس (11) پریشان بیٹھے رہنا (12) آنسوﺅں سے لبریز (13) کسی صحبت کو ناپسند کرنا (14) اداسی (15) دکھ (16) جذباتی دباﺅ کی وجہ سے نیند نہ آنا (17) متلی کچھ کھانے کے بعد آرام آنا (18) کھانے سے بھوک تیز ہونا۔
کالی فاسفوریکم
یہ دوا اس وقت تجویز کی جاتی ہے جب کوئی شخص بیماری یا زیادہ کام سے بیزار ہوجائے اور بہت بے چینی محسوس کرے یا کسی صورتحال کا سامنا کرنے کا اہل نہ ہو۔ بہت زیادہ حساس ہو‘ عام آوازوں سے پریشان ہو سکتا ہو‘ بری خبر سننا یا دنیا میں ہونے والے واقعات کا خیال مسائل میں اضافہ کرسکتا ہو‘ بے خوابی اور بے توجہی پیدا ہوسکتی ہے‘ اعصابی خوف کا احساس بڑھ سکتا ہے۔ کھانا گرمی اور آرام اکثر سکون لاسکتا ہے۔
علامات
(1) بیزاری (2) بہت بے چینی اور کسی صورتحال سے نپٹنے کی نااہلیت (3) سردرد (4) بہت زیادہ حساس (5) عام آوازوں سے گھبرانا (6) کمر درد (7) اعصابی نظام ہضم میں خرابی۔
لائیکو پوڈیم
لائیکو پوڈیم کے مریض ایک اندرونی احساس یعنی خود کو آگے رکھنے کے احساس کو ظاہر کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ یعنی وہ جو کچھ اپنے آپ کا ظاہر کرتے ہیں۔ درحقیقت وہ خود ہوتے نہیں ہیں۔ وہ ذہنی دباﺅ سے بے چینی محسوس کرتے ہیں اور خوداعتمادی میں کمی کا شکار ہوتے ہیں۔ یہ اپنے بارے میں بہت باخبر ہوتے ہیں یہ ان لوگوں کے قریب ہونا پسند کرتے ہیں جنہیں وہ طاقتور سمجھیں وہ بہت زیادہ بے چینی محسوس کرسکتے ہیں اور ناکامی کا بہت زیادہ خوف اگر انہیں کوئی ذمہ داری دی جائے اکثر وہ کوئی کام شروع کریں تو عام طور پر اس کو اچھی طرح کرتے ہیں۔
علامات
(1) بغیر کسی ظاہر ی وجہ کے سرہلاتے ہیں(2) چہرے کے مختلف قسم کے تاثرات سے اظہار (3) گیس‘ قبض اور اسہال (4) نگلنے میں دکھن (5) بند جگہوں کا خوف (6) بے قراری (7) نظام ہضم کی خرابیاں گیس اور ڈکاریں (8) میٹھے مشروبات اور گرم خوراک کی خواہش رکھنا (9) رات کو کھانسنا (10) اکیلے رہنے کی خواہش (11) جاگنے پر جھنجھلاہٹ (12) جلد خوفزدہ ہونے کا رحجان (13) ناکامی کا خوف (14) دباﺅ میں آ کر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جانا۔(15)لائیکو کا مریض دوسرے لوگوں پر کم غصہ اتارتے ہیں اور گھر والوں پر شدید غصہ کا اظہار کرتے ہیں۔ گھر والوں کے برعکس ‘باہر کے لوگوں سے بڑی پیار محبت سے باتیں کرتے ہیں
نیئرم میورٹیکم
اس دوا کے بنیادی مریض ذاتی طور پر اکیلے ہوتے ہیں مگر معاشرتی طور پر معاون ہوتے ہیں اور دوسروں کی مدد کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ گہرے جذبات خود تحفظی کا احساس اور شرم ان افراد کو محتاط‘ اکیلا اور تنہا بنا سکتا ہے۔ یہاں تک کہ جب وہ تنہا محسوس کرتے ہیں تو اپنے آپ ہر قسم کی معاشرتی صورتحال سے دور کرلیتے ہیں۔ اور یہ نہیں جانتے کہ کیا کہنا ہے اور کیا کرنا ہے۔آسانی سے دکھی اور متاثر ہو جاتے ہیں وہ پریشان ہوسکتے بیزاری کا شکار ہوسکتے ہیں۔ ناخوشگوار احساسات اپنے اوپر طاری کرسکتے ہیں۔ اور خود کو تنہا کرسکتے ہیں۔ وہ دلاسہ اور تسلی سے انکار کرسکتے ہیں اگرچہ ان کو اس کی ضرورت ہو وہ اکثر ہمدرد سامع ہوتے ہیں دوسرے لوگوں کے مسائل کے بند جگہوں کا خوف رات کو بے چینی (ڈاکو اور لٹیروں کے ڈر سے) جب اس دوا کی ضرورت ہو تو سردرد اور بے خوابی کا اکثر مشاہدہ کیا گیا ہے۔
علامات
(1) زبان خشک محسوس ہو (2) حلق کی جھلی خشک ہو (3) متلی (4) بے خوابی (5) بند جگہوں کا خوف (6) آدھے سر کا درد (7) قے ہونا (8) آنکھوں کے گرد درد (9) خشک اور نمکین خوراک کی خواہش (10) روہانسے مگر کوئی اس کو دیکھے نہ (11) تسلی ان کو برہم کردے (12) تنہائی سے ناراض (13) خوف‘ دکھ‘ غصہ (14) پریشان‘ کم ہمت‘ ٹوٹ پھوٹ کا شکار (15) ذہنی دباﺅ کا شکار۔
فاسفورس
یہ دوا اس وقت تجویز کی جاتی ہے جب مریض کھلے دل کا مالک‘ تخیلاتی طبعیت کا حامل‘ پرجوش آسانی سے حیران ہو جانے والا شدید اور بے بنیاد خوفوں سے بھرا ہوا ہوتا ہے۔ شدید بے چینی آسانی سے شروع ہو سکتی ہے کسی بھی چیز کے بار ے میں سوچنے سے‘ یہ لوگ دوسروں کیلئے پریشان اور حساس ہوتے ہیں۔ یہ لوگ اپنی ذات کو جذباتی نکتہ سے ہمدردی کے ساتھ خود کو بھلا لیتے ہیں اور حد سے گذر جاتے ہیں یہاں تک کہ بیمار پڑ جاتے ہیں۔ انہیں بہت زیادہ محبت اور یقین کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ اکثر بہتر محسوس کرتے ہیں۔ گفتگو سے یا کمر پر تھپکی دینے سے‘ چہرے کا آسانی سے سرخ ہو جانا‘ دھڑکنیں‘ پیاس‘ ٹھنڈے کی بہت زیادہ خواہش یا تازگی پیدا کرنے والی خوراک کی خواہش فاسفورس کی دوسری علامات ہیں۔
علامات
(1) بے چین (2) خوفزدہ (3) کمزور (4) آواز کی خرابی کا ہونا (5) تنگ بھاری چھاتی (6) خشک کھانسی (7) معدے‘ پیٹ اور کندھوں کے درمیان جلن والا درد (8) ٹھنڈے مشروبات کی پیاس (9) متلی (10) رات کو پسینے آنا۔
پلساٹیلا
وہ لوگ جنہیں عام طور پر اس دوا کی ضرورت ہوتی ہے اپنی بے چینی کا اظہار عدم تحفظ سے کرتے ہیں انہیں مسلسل سہارے اور تسلی کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ تنہا ہونے سے ڈرتے ہیں۔ یہ لوگ آسانی سے حوصلہ ہار دیتے ہیں‘ موڈی ہوتے ہیں‘ آنسوﺅں سے لبریز یہاں تک کہ بچگانہ حد تک جذباتی بہت زیادہ گرم ہونا یا کسی گرم کمرے میں رہنے سے بے چینی بڑھ جاتی ہے۔ ہارمونی تبدیلیوں کی وجہ سے بے چینی (بلوغت‘ ماہانہ ایام یا ایام کا ختم ہونا) اس میں بھی پلٹیلا سے مدد لی جاتی ہے۔
علامات
(1) حساس (2) روہانسے (3) ہمدردی اور توجہ کے طالب (4) بدلتی ہوئی علامات اور موڈ (5) کھلی ہوا کی خواہش (6) گرمی سے حساسیت (7) کم پیاس کے ساتھ خشک منہ (8) اچھی غذا کے معدے کو بے قاعدہ کردے (9) مختلف خیالات کی وجہ سے بے خوابی کی شکایت (10) سر میں ٹھنڈک کے اثرات (11) کھانسی رات کو شدید ترین (12) ماہانہ ایام میں تاخیر کم اخراج کے ساتھ۔
سلیشیا
ان لوگوں کو تجویز کی جاتی ہے جو کہ قابل اور سنجیدہ ہوں اس کے ساتھ ساتھ پریشان ہوں شرمیلے ہوں اور وقتی طور پر اعتماد کھو دیتے ہیں ان کی بے چینی عروج پر ہو جب وہ لوگوں کا سامنا کریں انٹرویو‘امتحان یا نئی نوکری یا کام۔ پریشانی اور زیادہ کام ان کیلئے درد سر کا باعث ہو‘ مشکلات کا باعث ہو اور بیزاری کی حالت پیدا کرے زیادہ حساسیت اور خوف۔
علامات
Monday, August 10, 2009
hahneman was muslim !ہانیمن مسلمان تھا!
صفحہ 579, 571 وغیرہ) ۔ہانیمن ،نبی آخر زمان اورعظیم فلاسفر حضرت محمد کی تعلیمات سے نہ صرف متاثر تھا بلکہ ان کی تعلیمات کے اس پر گہرے اثرات بھی تھے ۔ ایک وقت پر اس نے قرآن پاک کی تعلیمات سے متاثر ہو کر کلمہ پڑھ لیا تھا اور مسلمان ہوگیا۔ یہ خبر جب اس کے دوستوں اور خاندان میں پھیلی تو وہ لوگ اس سے بہت ناراض ہوئے اور اس کو دھمکیاں ملنا شروع ہوگئیں ۔ان دھمکیوں کی وجہ سے اس نے اپنی عظیم الشان دریافت ہومیوپیتھی کو فروغ دینا بند کر دیا۔ تاہم اس نے اپنی منقولہ و غیرمنقولہ جائیداد اپنے خاندان کے لوگوں میں تقسیم کر دی اور اسی سال دو ماہ کے عرصہ میں فرانس کی طرف ہجرت کر گیا۔ اس کا ابتدائی نام ’سیموئیل ‘ بنی اسرائیل کے ایک نبی کا نام پر رکھا گیا تھامسلمان ہونے کے بعد اس نے اس نام کو استعمال کیا اوراس کے بعد پرانا نام کرسچن فریڈرچ کبھی استعمال نہ کیا۔ اس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ ہانیمن نے اس نام کو بنی اسرائیل کے نبی کے نام پر رکھا تھایا کسی اور کے نام سے یا پھروہ خود اسلام کے لئے سچ کی تلاش میں سرگرداں تھا۔ہانیمن میوزیم میں جو پائس پیلس گریٹ آرمنڈ سٹریٹ لندن میں واقع ہے، اس کی کتابوںاور روزمرہ استعمال کی بہت سی چیزوں کا بڑا ذخیرہ ہے۔ اس کے استعمال شدہ کپڑوں میں قابل ذکر شے خوبصورتی سے تیار کی گئی جانماز ہے۔اس کے علاوہ ایک تسبیح ، ایک ترکی ٹوپی‘ بھی ہے ۔جائے نماز پر مسلسل استعمال کے واضح نشانات بھی موجود ہیں۔اس کی کتابوں کے ذخیرے میں قرآن پاک کا نسخہ بھی شامل ہے۔یہاں اہم بات یہ ہے کہ-1 ڈاکٹر سیموئیل ہانیمن نے کبھی ”ٹرنٹی“ Trinityکی اصلاح استعمال نہیں کی جو کہ عیسائیت کی واضح علامت ہے انہوں نے ہمیشہ خالق کی اصطلاح استعمال کی ہے۔-2 کتاب ”سیموئیل ہانیمن اس کی زندگی اور کام“ (مصنف رچرڈ رئیل جلد دوم صفحہ 389) میںایک خط نقل کیا گیا ہے۔ جس میں ہانیمن اپنے ایک مریض کو مخاطب کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ،”ہم محسوس کرتے ہیں کہ ہم اس ایک کی دوستی میں پرسکون ہیں تو کیا ہمیں کسی اور مذہب کی ضرورت ہے؟ اس کے علاوہ کچھ نہیں اس کے علاوہ ہر چیز قابل رحم گھٹیا انسانی تصور ہے جو توہمات سے بھرا ہواہے، انسانیت کی سچی تباہی کے اسی صفحے پر ایک اور خط میں مندرجہ بالا کتاب کے ذیل میں تحریر ہے۔ ”میں تسلیم کرتا ہوں سچے شکر کے ساتھ ، بے پناہ رحم اس ایک دینے والے کا تمام بھلائیوں کے“ہانیمن کے مسلمان ہونے کے بارے ایک واضح ثبوت صفحہ نمبر 245 جریدہ (Allgem Anzieg Der Deutsehen) ( Voll XII -No6) پر ہے جو برٹش میوزیم میں رکھا ہے اور اس بات کو بے نقاب کرتا ہے کہ ہانیمن کی وصیت میں درج ہدایات کے مطابق Madam Melanieنے ہانیمن کی تدفین کی رسومات میں صرف مسلمانوں کو مدعو کیا اور مسلمانوں کی تلاش کی خاطر اس نے ہانےمن کے انتقال کے 9 دن بعد تک انتظار کیا۔ ہانیمن کا انتقال 2 جولائی 1843ءکو ہوا لیکن اس کی تدفین 11 جولائی 1843 کو ماﺅنٹ میریٹری کے ایک گمنام قبرستان میں ہوئی۔
Monday, August 3, 2009
Now Homeopathy in Urdu ہومیوپیتھک اب اردو زبان میں
Sunday, August 2, 2009
Samuel Hahnemann Biography (1755-1843) By:Dr.Amin
فرائیڈرک سیموئیل ہانیمن-سوانح عمری








