Friday, September 18, 2009
Saturday, August 29, 2009
Anxiety and depression treatment in homeopathy
کم نوعیت کے بے چینی یا گھبراہٹ سے پیدا ہونے والے خلل دماغ کیلئے صرف نفسیاتی علاج ہی کافی ہے۔ عام طور پر ڈاکٹر ادویات اور نفسیاتی علاج کو ساتھ ساتھ ترجیح دیتے ہیں۔ اس بیماری سے شدید متاثرہ مریض کیلئے بہت سے مریض اس ملے جلے علاج کے اچھے نتائج ظاہر کرتے ہیں۔ بہ نسبت علیحدہ علیحدہ ادویاتی علاج یا نفسیاتی علاج کے کیونکہ بے چینی یا گھبراہٹ کے علاج کیلئے مختلف نوعیت کی ادویات کی بہت سی اقسام موجود ہیں اور ڈاکٹر اس بات کا صحیح اندازہ قبل از وقت نہیں کر سکتے کہ کون سی ادویات کسی خاص مریض کیلئے مددگار ثابت ہوں گی۔
اکثر دفعہ ڈاکٹر کو 6 سے آٹھ ہفتے تک مختلف ادویات آزمانا پڑتی ہیں‘
کسی ایک موثر دوا کے نتائج حاصل کرنے کیلئے۔ یہ علاج کی آزمایشوں کا یہ مطلب نہیں کہ مریض کی مدد نہیں کی جا رہی یا ڈاکٹر ناتجربہ کار ہے۔
اگرچہ بے چینی یا گھبراہٹ سے پیدا ہونے والا خلل دماغ تشخیص میں آسان نہیں لیکن کئی وجوہات ایسی ہوتی ہیں مریض کی شدید علامات میں مدد کرتی ہیں اور وہ مریض کیلئے اہم ہیں اور ان سے مدد لی جاتی ہے۔
بے چینی یا گھبراہٹ بذات خود کچھ نہیں ہوتی بلکہ یہ پڑھتی ہے خوف کے دوروں سے فوبیا سے اور وقفے وقفے سے ذہنی تناو سے۔ غیر علاج شدہ بے چینی اور گھبراہٹ سے پیدا ہونے والے خلل دماغ اکثر بعد میں ڈپریشن تشخیص ہوتے ہیں اور مریض کی تعلیمی قابلیت یا کام کرنے کی صلاحیت پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ بہت سے گھبراہٹ یا بے چینی کے مریض الکوحل یا منشیات کے عادی ہو جاتے ہیں۔ اپنی بیماری کی علامات کا علاج کرتے کرتے۔
اس کے علاوہ بچے اپنے ماں باپ سے بے سکونی کی عادت سیکھ جاتے ہیں۔ وہ بالغ لوگ جو کہ بے چینی سے پیدا ہونے والے خلل دماغ کا علاج کرا چکے ہوتے ہیں اپنی خاندان میں موجود ان لوگوں کی مدد کے قابل ہوتے ہیں جو اس بیماری سے متاثر ہوں۔ ان لوگوں کی نسبت جو کہ ابھی تک علاج نہ کرا سکے ہوں۔
علاج
ایکونائٹ
خوف کا حملہ انتہائی شدت کے ساتھ اچانک ہو جانا (خواہ وہ خوف موت ہی کا کیوں نہ ہو) اس دوا کی نشاندہی کرتا ہے۔ بے انتہا گھبراہٹ کی حالت جس کے ساتھ دل کی دھڑکن شدید ہو سکتی ہے سانس رک کر آنا اس کے ساتھ چہرہ سرخ ہو جانا۔
علامات
(1)اچانک شدید خوف کی وجہ سے بیماری کا حملہ
(2)بے چینی اور بے آرامی شکایات کے ساتھ
(3) خوف جو کہ نمایاں نہیں ہوتا
(4) جاگنے سے بیہوش ہو جانا یا چکر آنا
(5) اچانک بخار آ جانا جس میں ایک گال سرخ اور ایک پیلا ہو۔
(6) درد کی برداشت نہ ہونا
(7) درد سے پیشاب آنا بے چینی کے ساتھ
(8) درد جن کے ساتھ سن ہونا اور چبھن ہو
(9)آنکھ کا درد اور زخم
(10)شدید سردرد
(11) ناقابل برداشت پیاس
ارجینٹم نائٹریکم
یہ دوا اس وقت استعمال کی جاتی ہے جب کسی بڑے واقعے سے پہلے گھبراٹہ یا بے چینی شروع ہو جائے (مثال کے طور پر نوکری کیلئے انٹرویو‘ امتحان‘ عوام کے سامنے تقریر‘ شادی‘ معاشرتی وابستگی وغیرہ)
علامات
(1) جذباتی بے قاعدگی (2) خوف (3) بے چینی (4) مسلسل دماغی جھنجھلاہٹ بے باقاعدگی اور طوالت کے ساتھ (5) چکر آنا (6) اسہال (7)میٹھے اور نمک کی شدید خواہش‘ تیز ذائقوں کی خواہش (8) بے چین بے ہنگم سوچوں اور خیالات کے رحجان کا حامل
آرسینیکم البم
یہ دوا ان لوگوں کو تجویز کی جاتی ہے جو کہ اپنی صحت کے بارے میں بہت بے چین ہوتے ہیں اور ترتیب اور تحفظ کے بارے میں شدت پسند ہوتے ہیں۔ خوف کے دورے اکثرآدھی رات کو یا صبح کے ابتدائی گھنٹوں میں پڑتے ہیں۔
وہ شخص بے زاری محسوس کرسکتا ہے یہاں تک کہ وہ بے سکون اور تھکا ہوا رہے اور بے چینی سے حرکت کرتا رہے ایک جگہ سے دوسری جگہ حرکت کرتا رہے۔ ان لوگوں کو بے چینی کے سات بدہضمی اور دمہ کا حملہ بھی ہوسکتا ہے اور یہ لوگ روایتی طور پر حساس ہوتے ہیں چھوٹی چھوٹی باتوں کے بارے میں اور بہت صاف ستھرے ہوتے ہیں اور وہ ہر چیز کو قابو میں رکھنے کی بہت زیادہ ضرورت محسوس کرسکتے ہیں۔
علامات
(1) بے چین (2) بے چینی جس کے ساتھ نزلہ زکا م اور چھینکیں ہوں (3) دمہ آدھی رات کے بعد بدترین صورت میں (4) خوف‘ لیٹتے وقت گھٹن کا احساس ‘ خوفزدہ ہونا (5) بے چینی‘ بے سکونی (6) بے آرام ہونا (7) نیند کا آنا مگر مکمل طور پر نہ سو سکتا (8) بار بار پیاس محسوس کرنا (9) ہوا کی خواہش مگر ٹھنڈ سے حساس ہونا (10) کمزوری اور بیزاری (11) قے آنا اسہال یا اسہال کے بغیر کچھ کھانے اور پینے کے بعد۔
کلکیریا کاربونیکا
اس دوائی سے فائدہ اٹھانے والے لوگ سرد مزاج ہوتے ہیں۔ ہلکی سی ٹھنڈ ان پر براہ راست اثر کرتی ہے۔ انہیں خود کو گرم رکھنے میں مشکلات درپیش آتی ہیں۔ ان میں میٹھے کی خواہش شدید ہوتی ہے اور جلد تھک جاتے ہیں یہ قابل بھروسہ ٹھوس لوگ ہوتے ہیں جو کہ جسمانی بیماری کا بہت زیادہ اثر لیتے ہیں یا بہت زیادہ کام کا اور خوفزدہ ہو جاتے ہیں کسی نقصان سے ان کی سوچیں تھکن کے باعث منتشر اور پریشان ہوتی ہیں۔ پریشانیاں اور بری خبریں ان کو مشتعل کر دیتی ہیں ان کے اندر ایک خوف کسی تباہی یا نقصان کا بڑھتا جاتا ہے اپنے لئے یا دوسروں کیلئے بلندی کا خوف اور بند جگہوں کا خوف بھی عام ہیں۔
علامات
(1) پسینہ بڑھنا (2)رات کو پسینہ آنا (3) ٹھنڈے ہاتھ پاﺅں ہونا (4) چکرآنا (5) متلی ہونا (6) بہت زیادہ بھوک لگنا (7) چکنائی ناپسند کرنا (8) انڈوں کی شدید خواہش (9) روشنی سے آنکھوں کی حساسیت (10) ذرد چہرہ (11) سست ہاضمہ کے ساتھ زیادہ بھوک۔
جیلسیم
یہ دوا اس وقت تجویز کی جاتی ہے جس وقت آپ کو کمزوری کا احساس ہو کپکپاہٹ اور دماغی تھکن (جیسے خوف سے مفلوج ہو یاجانا) یہ اسوقت بھی کارآمد ہوتی ہے جب کوئی شخص کسی متوقع واقعہ کی وجہ سے بے چینی محسوس کرے ۔ جیسے عوام کے سامنے آنے کا خوف یا انٹرویو وغیرہ۔ یا امتحان سے پہلے بے چینی‘ دندان سازکے پاس جانا یا اسی طرح کے دباﺅ والے واقعات ٹھنڈا ہونا پسینے آنا اسہال اور سردرد جو کہ عام طور پر پریشانی کی وجہ سے ہو۔ ہجوم کا خوف گرنے کا خوف یا یہ خوف کہ دل رک سکتا ہے جیلسیئم کی دوسری علامات ہیں۔
علامات
(1)گھبراہٹ (2) خوف (3) امتحان یا عوام کے سامنے کسی مظاہرے سے پہلے بے چینی (4) تھکن اور جسم میں درد (5) ہاتھ پاﺅں سر اور پلکوں کا بھاری پن (6) سردرد (7) چھونے سے دکھن کا احساس (8) گلا خراب ہونا (9) پیاس کم لگنا (10) چکر آنا‘ کپکپاہٹ‘ تھکن بیزاری۔
اگنیشیا امارا
ایک حساس شخص جو کہ غم سے بے چین ہوجاتا ہے‘ نقصان سے ناامیدی سے تنقید سے تنہائی سے (یا کسی بھی جذباتی دباﺅ سے)اس دوائی سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ اس دوا کا بنیادی جز جذباتی دباﺅ ہے خاص طور پر ناامیدی یا دکھ دوسری علامات ہیں دفاعی رویہ‘ مسلسل آہیں بھرنا یا مزاج کی تبدیلی ہے۔ یہ شخص غیر متوقع طور پر بہت زیادہ ہنسنا شروع کردیتا ہے یا رونا شروع کردیتا ہے۔
علامات
(1) قے ہونا (2) گلے میں کچھ پھنسنے کا احساس ہونا (3) بخار کے ساتھ ٹھنڈ لگنا (4) ٹھنڈ کے دوران پیاس لگنا (5) گرمی سے ٹھنڈ کا ختم ہونا یا آرام آنا (6) کمر یا پیٹ میں مروڑ کے ساتھ درد ہونا (7) سر میں درد اس احساس کے ساتھ جیسے کوئی سر میں کیل ٹھونک رہا ہو (8) بہت زیادہ حساس جلد (9) سوچوں میں گم رہنا (10) اداس (11) پریشان بیٹھے رہنا (12) آنسوﺅں سے لبریز (13) کسی صحبت کو ناپسند کرنا (14) اداسی (15) دکھ (16) جذباتی دباﺅ کی وجہ سے نیند نہ آنا (17) متلی کچھ کھانے کے بعد آرام آنا (18) کھانے سے بھوک تیز ہونا۔
کالی فاسفوریکم
یہ دوا اس وقت تجویز کی جاتی ہے جب کوئی شخص بیماری یا زیادہ کام سے بیزار ہوجائے اور بہت بے چینی محسوس کرے یا کسی صورتحال کا سامنا کرنے کا اہل نہ ہو۔ بہت زیادہ حساس ہو‘ عام آوازوں سے پریشان ہو سکتا ہو‘ بری خبر سننا یا دنیا میں ہونے والے واقعات کا خیال مسائل میں اضافہ کرسکتا ہو‘ بے خوابی اور بے توجہی پیدا ہوسکتی ہے‘ اعصابی خوف کا احساس بڑھ سکتا ہے۔ کھانا گرمی اور آرام اکثر سکون لاسکتا ہے۔
علامات
(1) بیزاری (2) بہت بے چینی اور کسی صورتحال سے نپٹنے کی نااہلیت (3) سردرد (4) بہت زیادہ حساس (5) عام آوازوں سے گھبرانا (6) کمر درد (7) اعصابی نظام ہضم میں خرابی۔
لائیکو پوڈیم
لائیکو پوڈیم کے مریض ایک اندرونی احساس یعنی خود کو آگے رکھنے کے احساس کو ظاہر کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ یعنی وہ جو کچھ اپنے آپ کا ظاہر کرتے ہیں۔ درحقیقت وہ خود ہوتے نہیں ہیں۔ وہ ذہنی دباﺅ سے بے چینی محسوس کرتے ہیں اور خوداعتمادی میں کمی کا شکار ہوتے ہیں۔ یہ اپنے بارے میں بہت باخبر ہوتے ہیں یہ ان لوگوں کے قریب ہونا پسند کرتے ہیں جنہیں وہ طاقتور سمجھیں وہ بہت زیادہ بے چینی محسوس کرسکتے ہیں اور ناکامی کا بہت زیادہ خوف اگر انہیں کوئی ذمہ داری دی جائے اکثر وہ کوئی کام شروع کریں تو عام طور پر اس کو اچھی طرح کرتے ہیں۔
علامات
(1) بغیر کسی ظاہر ی وجہ کے سرہلاتے ہیں(2) چہرے کے مختلف قسم کے تاثرات سے اظہار (3) گیس‘ قبض اور اسہال (4) نگلنے میں دکھن (5) بند جگہوں کا خوف (6) بے قراری (7) نظام ہضم کی خرابیاں گیس اور ڈکاریں (8) میٹھے مشروبات اور گرم خوراک کی خواہش رکھنا (9) رات کو کھانسنا (10) اکیلے رہنے کی خواہش (11) جاگنے پر جھنجھلاہٹ (12) جلد خوفزدہ ہونے کا رحجان (13) ناکامی کا خوف (14) دباﺅ میں آ کر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جانا۔(15)لائیکو کا مریض دوسرے لوگوں پر کم غصہ اتارتے ہیں اور گھر والوں پر شدید غصہ کا اظہار کرتے ہیں۔ گھر والوں کے برعکس ‘باہر کے لوگوں سے بڑی پیار محبت سے باتیں کرتے ہیں
نیئرم میورٹیکم
اس دوا کے بنیادی مریض ذاتی طور پر اکیلے ہوتے ہیں مگر معاشرتی طور پر معاون ہوتے ہیں اور دوسروں کی مدد کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ گہرے جذبات خود تحفظی کا احساس اور شرم ان افراد کو محتاط‘ اکیلا اور تنہا بنا سکتا ہے۔ یہاں تک کہ جب وہ تنہا محسوس کرتے ہیں تو اپنے آپ ہر قسم کی معاشرتی صورتحال سے دور کرلیتے ہیں۔ اور یہ نہیں جانتے کہ کیا کہنا ہے اور کیا کرنا ہے۔آسانی سے دکھی اور متاثر ہو جاتے ہیں وہ پریشان ہوسکتے بیزاری کا شکار ہوسکتے ہیں۔ ناخوشگوار احساسات اپنے اوپر طاری کرسکتے ہیں۔ اور خود کو تنہا کرسکتے ہیں۔ وہ دلاسہ اور تسلی سے انکار کرسکتے ہیں اگرچہ ان کو اس کی ضرورت ہو وہ اکثر ہمدرد سامع ہوتے ہیں دوسرے لوگوں کے مسائل کے بند جگہوں کا خوف رات کو بے چینی (ڈاکو اور لٹیروں کے ڈر سے) جب اس دوا کی ضرورت ہو تو سردرد اور بے خوابی کا اکثر مشاہدہ کیا گیا ہے۔
علامات
(1) زبان خشک محسوس ہو (2) حلق کی جھلی خشک ہو (3) متلی (4) بے خوابی (5) بند جگہوں کا خوف (6) آدھے سر کا درد (7) قے ہونا (8) آنکھوں کے گرد درد (9) خشک اور نمکین خوراک کی خواہش (10) روہانسے مگر کوئی اس کو دیکھے نہ (11) تسلی ان کو برہم کردے (12) تنہائی سے ناراض (13) خوف‘ دکھ‘ غصہ (14) پریشان‘ کم ہمت‘ ٹوٹ پھوٹ کا شکار (15) ذہنی دباﺅ کا شکار۔
فاسفورس
یہ دوا اس وقت تجویز کی جاتی ہے جب مریض کھلے دل کا مالک‘ تخیلاتی طبعیت کا حامل‘ پرجوش آسانی سے حیران ہو جانے والا شدید اور بے بنیاد خوفوں سے بھرا ہوا ہوتا ہے۔ شدید بے چینی آسانی سے شروع ہو سکتی ہے کسی بھی چیز کے بار ے میں سوچنے سے‘ یہ لوگ دوسروں کیلئے پریشان اور حساس ہوتے ہیں۔ یہ لوگ اپنی ذات کو جذباتی نکتہ سے ہمدردی کے ساتھ خود کو بھلا لیتے ہیں اور حد سے گذر جاتے ہیں یہاں تک کہ بیمار پڑ جاتے ہیں۔ انہیں بہت زیادہ محبت اور یقین کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ اکثر بہتر محسوس کرتے ہیں۔ گفتگو سے یا کمر پر تھپکی دینے سے‘ چہرے کا آسانی سے سرخ ہو جانا‘ دھڑکنیں‘ پیاس‘ ٹھنڈے کی بہت زیادہ خواہش یا تازگی پیدا کرنے والی خوراک کی خواہش فاسفورس کی دوسری علامات ہیں۔
علامات
(1) بے چین (2) خوفزدہ (3) کمزور (4) آواز کی خرابی کا ہونا (5) تنگ بھاری چھاتی (6) خشک کھانسی (7) معدے‘ پیٹ اور کندھوں کے درمیان جلن والا درد (8) ٹھنڈے مشروبات کی پیاس (9) متلی (10) رات کو پسینے آنا۔
پلساٹیلا
وہ لوگ جنہیں عام طور پر اس دوا کی ضرورت ہوتی ہے اپنی بے چینی کا اظہار عدم تحفظ سے کرتے ہیں انہیں مسلسل سہارے اور تسلی کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ تنہا ہونے سے ڈرتے ہیں۔ یہ لوگ آسانی سے حوصلہ ہار دیتے ہیں‘ موڈی ہوتے ہیں‘ آنسوﺅں سے لبریز یہاں تک کہ بچگانہ حد تک جذباتی بہت زیادہ گرم ہونا یا کسی گرم کمرے میں رہنے سے بے چینی بڑھ جاتی ہے۔ ہارمونی تبدیلیوں کی وجہ سے بے چینی (بلوغت‘ ماہانہ ایام یا ایام کا ختم ہونا) اس میں بھی پلٹیلا سے مدد لی جاتی ہے۔
علامات
(1) حساس (2) روہانسے (3) ہمدردی اور توجہ کے طالب (4) بدلتی ہوئی علامات اور موڈ (5) کھلی ہوا کی خواہش (6) گرمی سے حساسیت (7) کم پیاس کے ساتھ خشک منہ (8) اچھی غذا کے معدے کو بے قاعدہ کردے (9) مختلف خیالات کی وجہ سے بے خوابی کی شکایت (10) سر میں ٹھنڈک کے اثرات (11) کھانسی رات کو شدید ترین (12) ماہانہ ایام میں تاخیر کم اخراج کے ساتھ۔
سلیشیا
ان لوگوں کو تجویز کی جاتی ہے جو کہ قابل اور سنجیدہ ہوں اس کے ساتھ ساتھ پریشان ہوں شرمیلے ہوں اور وقتی طور پر اعتماد کھو دیتے ہیں ان کی بے چینی عروج پر ہو جب وہ لوگوں کا سامنا کریں انٹرویو‘امتحان یا نئی نوکری یا کام۔ پریشانی اور زیادہ کام ان کیلئے درد سر کا باعث ہو‘ مشکلات کا باعث ہو اور بیزاری کی حالت پیدا کرے زیادہ حساسیت اور خوف۔
علامات
Monday, August 10, 2009
hahneman was muslim !ہانیمن مسلمان تھا!
صفحہ 579, 571 وغیرہ) ۔ہانیمن ،نبی آخر زمان اورعظیم فلاسفر حضرت محمد کی تعلیمات سے نہ صرف متاثر تھا بلکہ ان کی تعلیمات کے اس پر گہرے اثرات بھی تھے ۔ ایک وقت پر اس نے قرآن پاک کی تعلیمات سے متاثر ہو کر کلمہ پڑھ لیا تھا اور مسلمان ہوگیا۔ یہ خبر جب اس کے دوستوں اور خاندان میں پھیلی تو وہ لوگ اس سے بہت ناراض ہوئے اور اس کو دھمکیاں ملنا شروع ہوگئیں ۔ان دھمکیوں کی وجہ سے اس نے اپنی عظیم الشان دریافت ہومیوپیتھی کو فروغ دینا بند کر دیا۔ تاہم اس نے اپنی منقولہ و غیرمنقولہ جائیداد اپنے خاندان کے لوگوں میں تقسیم کر دی اور اسی سال دو ماہ کے عرصہ میں فرانس کی طرف ہجرت کر گیا۔ اس کا ابتدائی نام ’سیموئیل ‘ بنی اسرائیل کے ایک نبی کا نام پر رکھا گیا تھامسلمان ہونے کے بعد اس نے اس نام کو استعمال کیا اوراس کے بعد پرانا نام کرسچن فریڈرچ کبھی استعمال نہ کیا۔ اس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ ہانیمن نے اس نام کو بنی اسرائیل کے نبی کے نام پر رکھا تھایا کسی اور کے نام سے یا پھروہ خود اسلام کے لئے سچ کی تلاش میں سرگرداں تھا۔ہانیمن میوزیم میں جو پائس پیلس گریٹ آرمنڈ سٹریٹ لندن میں واقع ہے، اس کی کتابوںاور روزمرہ استعمال کی بہت سی چیزوں کا بڑا ذخیرہ ہے۔ اس کے استعمال شدہ کپڑوں میں قابل ذکر شے خوبصورتی سے تیار کی گئی جانماز ہے۔اس کے علاوہ ایک تسبیح ، ایک ترکی ٹوپی‘ بھی ہے ۔جائے نماز پر مسلسل استعمال کے واضح نشانات بھی موجود ہیں۔اس کی کتابوں کے ذخیرے میں قرآن پاک کا نسخہ بھی شامل ہے۔یہاں اہم بات یہ ہے کہ-1 ڈاکٹر سیموئیل ہانیمن نے کبھی ”ٹرنٹی“ Trinityکی اصلاح استعمال نہیں کی جو کہ عیسائیت کی واضح علامت ہے انہوں نے ہمیشہ خالق کی اصطلاح استعمال کی ہے۔-2 کتاب ”سیموئیل ہانیمن اس کی زندگی اور کام“ (مصنف رچرڈ رئیل جلد دوم صفحہ 389) میںایک خط نقل کیا گیا ہے۔ جس میں ہانیمن اپنے ایک مریض کو مخاطب کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ،”ہم محسوس کرتے ہیں کہ ہم اس ایک کی دوستی میں پرسکون ہیں تو کیا ہمیں کسی اور مذہب کی ضرورت ہے؟ اس کے علاوہ کچھ نہیں اس کے علاوہ ہر چیز قابل رحم گھٹیا انسانی تصور ہے جو توہمات سے بھرا ہواہے، انسانیت کی سچی تباہی کے اسی صفحے پر ایک اور خط میں مندرجہ بالا کتاب کے ذیل میں تحریر ہے۔ ”میں تسلیم کرتا ہوں سچے شکر کے ساتھ ، بے پناہ رحم اس ایک دینے والے کا تمام بھلائیوں کے“ہانیمن کے مسلمان ہونے کے بارے ایک واضح ثبوت صفحہ نمبر 245 جریدہ (Allgem Anzieg Der Deutsehen) ( Voll XII -No6) پر ہے جو برٹش میوزیم میں رکھا ہے اور اس بات کو بے نقاب کرتا ہے کہ ہانیمن کی وصیت میں درج ہدایات کے مطابق Madam Melanieنے ہانیمن کی تدفین کی رسومات میں صرف مسلمانوں کو مدعو کیا اور مسلمانوں کی تلاش کی خاطر اس نے ہانےمن کے انتقال کے 9 دن بعد تک انتظار کیا۔ ہانیمن کا انتقال 2 جولائی 1843ءکو ہوا لیکن اس کی تدفین 11 جولائی 1843 کو ماﺅنٹ میریٹری کے ایک گمنام قبرستان میں ہوئی۔
Monday, August 3, 2009
Now Homeopathy in Urdu ہومیوپیتھک اب اردو زبان میں
Al Rahim Homeo clinic and Research Center (ARHCRC)
Sunday, August 2, 2009
Samuel Hahnemann Biography (1755-1843) By:Dr.Amin
فرائیڈرک سیموئیل ہانیمن-سوانح عمری